امریکا میں بھارتی نژاد خارجہ پالیسی کے ماہر 64 سالہ ایشلی ٹیلس کو امریکی دفاعی راز مبینہ طور پر چین کو دینے کے الزام میں ورجینیا سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔امریکی نشریاتی اداروں کے مطابق، ایف بی آئی نے چھاپے کے دوران ان کے گھر سے ایک ہزار سے زائد “ٹاپ سیکرٹ” دفاعی دستاویزات برآمد کیں۔یہ حساس معلومات ایشلی ٹیلس نے اُس وقت جمع کرنا شروع کی تھیں جب وہ امریکی سرکاری اداروں میں ملازم تھے، اور حال ہی میں وہ محکمہ خارجہ میں مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔امریکی محکمۂ انصاف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دفاعی نوعیت کی خفیہ دستاویزات گھر پر رکھنا ایک سنگین وفاقی جرم ہے۔بیان کے مطابق، ملزم کے قبضے سے ملنے والے مواد میں امریکی فوجی طیاروں کی صلاحیتوں، دفاعی منصوبوں، اور حساس سیکیورٹی اپڈیٹس سے متعلق معلومات شامل ہیں۔

محکمۂ انصاف کے مطابق، اگر الزامات ثابت ہو گئے تو ملزم کو 10 سال قید اور ڈھائی لاکھ ڈالر تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔دوسری جانب ایف بی آئی نے انکشاف کیا ہے کہ ایشلی ٹیلس نے گزشتہ چند برسوں میں متعدد بار چینی حکام سے ملاقاتیں کیں۔تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ گزشتہ دو ماہ میں انہیں محکمۂ خارجہ اور دفاع کی عمارتوں سے خفیہ دستاویزات پرنٹ کرتے ہوئے کئی مرتبہ دیکھا گیا۔

ایف بی آئی کے مطابق، نگرانی کے دوران جب وہ ایک بیگ کے ساتھ دفتر سے نکلے تو ان پر شک گہرا ہو گیا۔ان کا خفیہ طور پر پیچھا کیا گیا، اور حاصل شواہد کی بنیاد پر ان کے گھر پر چھاپا مار کارروائی کی گئی، جہاں سے بڑی تعداد میں امریکی دفاعی رازوں پر مشتمل مواد برآمد ہوا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کیس قومی سلامتی کے لیے نہایت حساس نوعیت کا ہے، اور تفتیشی ادارے یہ معلوم کرنے میں مصروف ہیں کہ چینی حکومت کو اب تک کتنی معلومات منتقل کی گئیں۔







Discussion about this post