افغان فورسز اور طالبان کی جانب سے پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر بلااشتعال فائرنگ کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی، پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق چمن میں افغان فورسز نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو بچوں سمیت چار افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پاک فوج نے جوابی کارروائی میں ویش منڈی اور اسپن بولدک میں افغان طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور دس زخمی ہوئے۔ فی الحال فائرنگ کا سلسلہ رک گیا ہے تاہم سرحدی علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔کشیدگی کے باعث چمن کے تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں، جب کہ پولیو مہم کو بھی عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے مشترکہ حملے کو ناکام بنایا۔ افغان طالبان نے علی الصبح تین مقامات پر حملے کیے، تاہم پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی سے وہ پسپا ہو گئے۔موصول اطلاعات کے مطابق 15 سے 20 افغان طالبان مارے گئے ہیں، جب کہ دہشت گرد دیہات اور معصوم شہریوں کو بطور ڈھال استعمال کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے پاک افغان دوستی گیٹ کو دھماکے سے تباہ کر دیا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ تجارت اور مقامی آمد و رفت کے مخالف ہیں۔ دوسری جانب کرم سیکٹر میں بھی افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی فائرنگ پر پاک فوج نے مؤثر کارروائی کی۔جوابی کارروائی میں آٹھ پوسٹیں اور چھ ٹینک بمعہ عملہ تباہ کر دیے گئے، جب کہ متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے اور امریکی ساختہ اسلحہ قبضے میں لے لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق کرم سیکٹر میں اس وقت صورتحال قابو میں ہے تاہم اسپن بولدک کے اطراف مزید افغان طالبان کے اکٹھے ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔







Discussion about this post