جب بھی بارش ہوتی ہے، جب بھی نالے ابل پڑتے ہیں یا جب بھی کوڑا کرکٹ جمع ہو جاتا ہے، لاتعداد سینٹری ورکرز جو زیادہ تر محروم طبقات سے تعلق رکھتے ہیں ، یہ گندگی صاف کرنے کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ تاہم، پاکستان میں صفائی کا یہ عملہ ایسے حالات میں زندگی گزارتا ہے جو منظم امتیاز، استحصال اور نظراندازی سے بھری ہوئی ہے۔ بین الاقوامی لیبر تنظیم کی "باعزت روزگار” کی تعریف جو آزادی، مساوات، تحفظ اور انسانی وقار پر مبنی ہے ، ان کے لیے ایک دور کا خواب بن چکی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور سینٹر فار لاء اینڈ جسٹس کی مشترکہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ گندگی صاف کرتے ہیں، انہیں خود بعض اوقات بے وقعت سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹ میں چھ اضلاع کے 230 سے زائد سینٹری ورکرز کے بیانات شامل ہیں، جن میں سے 66 نے تفصیلی تجربات بیان کیے۔ ان کی کہانیاں ساختی ناانصافی کی ایک تاریک تصویر پیش کرتی ہیں۔ تقریباً نصف نے بتایا کہ انہیں "چُھڑا”، "بھنگی” اور "جمعدار” جیسے توہین آمیز الفاظ سے پکارا جاتا ہے۔ نصف سے زیادہ کا کہنا تھا کہ ان کی ذات یا مذہب ان کے لیے دستیاب ملازمتوں کا تعین کرتا ہے، اور کئی ایسے تھے جنہیں دیگر محکموں میں درخواست دینے کے باوجود زبردستی صفائی کے کام پر لگا دیا گیا۔ یہ رویے ایک ایسے امتیازی ذہن کی عکاسی کرتے ہیں جو معاشرتی ترقی کے راستے بند کر دیتا ہے اور پورے خاندانوں کو نسل در نسل خطرناک اور کم حیثیت والے کاموں میں جکڑ دیتا ہے۔
دہائیوں کی خدمت کے باوجود صفائی کے کارکنوں کے لیے ملازمت کا تحفظ اب بھی ناپید ہے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن جو سندھ میں نکاسی آب کے کارکنوں کا سب سے بڑا ادارہ ہے میں صرف چند ملازمین مستقل ہیں، جبکہ اکثریت بغیر تحریری معاہدوں کے کام کر رہی ہے۔ اس ادارے نے آخری بار 2006 میں سینٹری ورکرز ، جنہیں مقامی طور پر "کنڈی مین” کہا جاتا ہے، کو باقاعدہ تعینات کیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ ادارہ عارضی ملازمین اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں پر انحصار کر رہا ہے۔ یہی صورتحال دیگر علاقوں میں بھی ہے؛ عمرکوٹ میں ایک کارکن نے 18 سال کام کیا مگر اسے کبھی مستقل نہیں کیا گیا۔ مقامی حکومتیں اور ٹھیکیدار اس غیر محفوظ مزدور طبقے کے کمزور حالات کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مالی استحصال بھی واضح ہے: 53 فیصد سینٹری ورکرز قانونی کم از کم اجرت سے کم کماتے ہیں، جبکہ پانچ میں سے چار نے کبھی اوور ٹائم تنخواہ نہیں پائی حالانکہ وہ زہریلے نالوں اور گندے پانی میں طویل، سخت شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔

صحت اور حفاظت کی صورتحال بھی اتنی ہی سنگین ہے۔ آدھے سے زیادہ سینٹری ورکرز نے بتایا کہ وہ اپنے کام سے متعلق بیماریوں جیسے سانس اور جلد کی بیماریوں میں مبتلا ہیں، جو زہریلے فضلے کے مسلسل سامنا کرنے سے پیدا ہوتی ہیں۔ زیادہ تر کو دستانے اور ماسک اپنی جیب سے خریدنے پڑتے ہیں اور کئی کے پاس یہ بھی نہیں ہوتے۔ اسلام آباد میں ایک کارکن کا ہاتھ ایک سرنج چبھنے سے زخمی ہو گیا جس سے اس کی ایک انگلی ضائع ہوگئی۔ یہ کوئی انفرادی واقعات نہیں ، 2011 سے 2023 کے درمیان کم از کم 80 صفائی کے کارکن اپنی جانیں گنوا بیٹھے جب وہ بغیر حفاظتی سازوسامان یا مشینی مدد کے نالیاں صاف کر رہے تھے۔
سینٹری ورکرز وہ صاف کرتے ہیں جو ہم پھینک دیتے ہیں۔ وہ شہری زندگی اور صحتِ عامہ کے لیے ناگزیر ہیں، مگر ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جاتا ہے جیسے وہ غیر مرئی اور غیر اہم ہوں۔ امتیاز کا شکار خواتین کو اس سے بھی زیادہ سخت حالات کا سامنا ہے۔ مثال کے طور پر کراچی میں غیر مسلم خواتین کو غیر متناسب طور پر بیت الخلا یا کپڑے دھونے جیسے کاموں پر لگایا جاتا ہے، جب کہ ان کی مسلم ہم منصب نسبتاً کم توہین آمیز کام کرتی ہیں۔ جنس، ذات اور مذہب کے اس امتزاج نے پہلے سے موجود ناانصافی میں مزید ذلت کا عنصر شامل کر دیا ہے۔

اس بحران کی جڑ قانونی طور پر ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کو تسلیم نہ کرنا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 25 مساوات کا وعدہ کرتا ہے، مگر ذات کو ممنوعہ بنیاد کے طور پر نہیں گنتا، جس کی وجہ سے سینٹری ورکرز ایسے امتیازی عمل سے غیر محفوظ رہتے ہیں جو انہیں دوسرے پیشوں میں جانے سے روکتا ہے۔ صوبائی محنت قوانین بکھرے ہوئے اور غیر مؤثر ہیں، اور ان میں حفاظت کے ضوابط کی واضح نفاذ کی کمی ہے، جس کے باعث ہزاروں کارکن روزانہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر بنیادی انسانی وقار کے منافی حالات میں کام کر رہے ہیں۔
یہ صرف محنت کشوں کے حقوق کا معاملہ نہیں، بلکہ پاکستان کے مساوات اور انصاف کے عزم کا امتحان ہے۔ محنت اور انسانی حقوق کے ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ آئینی اصلاحات کے ذریعے ذات پات پر مبنی امتیاز کو غیر قانونی قرار دیا جائے، ملازمت کے تحریری معاہدے اور مستقل تقرریاں یقینی بنائی جائیں، کم از کم اجرت اور اوور ٹائم قوانین پر سختی سے عمل کرایا جائے، خطرناک کاموں جیسے نالے صاف کرنے کو مشینی بنایا جائے اور تمام کارکنوں کو مناسب حفاظتی سازوسامان اور تربیت فراہم کی جائے۔ اسی طرح، معاشرتی سطح پر بدنامی کے خاتمے، عوامی رویوں میں تبدیلی اور صفائی کے پیشے کو باوقار حیثیت دینے کی کوششیں بھی ناگزیر ہیں۔

سینٹری ورکرز وہ صاف کرتے ہیں جو ہم پھینک دیتے ہیں۔ وہ ہماری صحت اور شہروں کے لیے ناگزیر ہیں، لیکن ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے جیسے وہ غیر اہم ہوں۔ کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی جب وہ اپنے چند شہریوں کو ذات یا مذہب کی بنیاد پر ذلت آمیز، خطرناک اور استحصالی حالات میں کام کرنے پر مجبور کرے۔ اصلاحات صرف ضروری نہیں بلکہ فوری ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد محنت کا شعبہ صوبائی معاملہ ہے، اس لیے یہ صوبائی قانون سازوں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون، پالیسی اور عوامی آگاہی کے ذریعے سینٹری ورکرز کے وقار، سلامتی اور مساوات کو یقینی بنائیں۔ اس سے کم کوئی بھی اقدام ان کے خلاف اس نظامِ ظلم میں شمولیت کے مترادف ہوگا جو اُن لوگوں کو پامال کرتا ہے جو قوم کی خدمت اس کے سب سے گندے اور خطرناک محاذ پر کر رہے ہیں۔
(ترجمہ بشکریہ دی نیوز )







Discussion about this post