وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ شرم الشیخ میں ہونے والی غزہ امن کانفرنس ایک ممکنہ طور پر تاریخی موڑ ثابت ہو سکتی ہے، اور پاکستان نے اس عمل میں بھرپور اور گہرائی سے حصہ لیا ہے۔ اپنی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر پوسٹ میں وزیراعظم نے لکھا کہ پاکستان کی سب سے اہم ترجیح غزہ پر مسلط نسل کشی کی مہم کا فوری خاتمہ تھا، اور اس مقصد کو دیگر برادر ممالک کے ساتھ مل کر بار بار واضح طور پر اجاگر کیا گیا۔شہباز شریف نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ظلم کو ختم کرنے کا وعدہ پورا کیا، اور پاکستان ان کی امن کی اس منفرد کوشش کی تحسین کرتا رہے گا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام کی آزادی، وقار اور خوشحالی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیادی ترجیح بنی رہے گی، اور پاکستان کی مشرق وسطیٰ پالیسی کا محور ہمیشہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق مضبوط اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام پر مبنی ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا۔
As I board the plane to return home after the Gaza Peace Summit in Sharm el Sheikh, I want to share some reflections on the potentially transformational nature of what took place and why Pakistan has been so deeply involved.
The most important priority for Pakistan was the…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) October 14, 2025
یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی خصوصی دعوت پر کانفرنس میں شرکت کی۔ اس اجلاس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ امن معاہدے پر دستخط ہوئے، جبکہ دیگر شرکاء میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر، انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو، یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، اور جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز شامل تھے۔اس کے علاوہ اسپین، کویت، اٹلی، کینیڈا اور عراق کے سربراہان بھی کانفرنس میں شریک ہوئے۔
کانفرنس کے دوران امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ آج غزہ کے عوام کے لیے ایک تاریخی دن ہے، مصر نے امن معاہدے میں اہم کردار ادا کیا، اور اس معاہدے سے غزہ میں امن اور ترقی ممکن ہوگی، جس سے مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن اور استحکام آئے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب میں کہا کہ یہ دن غزہ کے عوام کے لیے تاریخی ہے، اور صدر ٹرمپ کی قیادت میں انتھک کوششوں کے نتیجے میں امن حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبیل انعام برائے امن کے لیے نامزد کیا تھا اور آج بھی وہ حقیقی حقدار ہیں، کیونکہ انہوں نے جنوبی ایشیا اور غزہ میں لاکھوں انسانوں کی زندگیاں بچائیں۔ وزیراعظم نے مزید بتایا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے کانفرنس میں دیگر سربراہان مملکت کے ساتھ گرمجوش مصافحہ کیا اور امن کے لیے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔







Discussion about this post