پاکستان نے طالبان حکومت کے حالیہ بیانات پر دوٹوک اور دبنگ مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح پیغام دے دیا ہے , “پاکستان کو اپنے داخلی معاملات پر کسی بیرونی مشورے کی ضرورت نہیں!”دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری سخت ردعمل میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت کے ترجمان کے پاکستان سے متعلق بیانات غیر ضروری اور ناقابلِ قبول ہیں۔ترجمان دفترِ خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ہم نے افغان ترجمان کے حالیہ تبصروں کا نوٹس لیا ہے اور واضح طور پر باور کراتے ہیں کہ انہیں اپنے دائرہ اختیار تک محدود رہنا چاہیے۔پاکستان نے افغان حکام کو یاد دہانی کرائی ہے کہ دوسرے ممالک کے معاملات میں عدم مداخلت بین الاقوامی سفارتی روایات کا بنیادی اصول ہے، اور کسی بھی ملک کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ہمسایہ ریاست کے اندرونی امور پر تبصرہ کرے۔
We have noted the recent statements made by the spokesperson of the Taliban regime regarding Pakistan’s internal affairs.
We strongly encourage the Afghan spokesperson to prioritize issues pertinent to Afghanistan and refrain from commenting on matters outside their…
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) October 13, 2025
ترجمان نے یہ بھی کہا کہ پاکستان توقع رکھتا ہے کہ طالبان حکومت دوحہ معاہدے کے تحت عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کرے گی خاص طور پر اس عہد کی کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ دفترِ خارجہ نے مزید کہا کہ طالبان انتظامیہ کو بے بنیاد پروپیگنڈے کے بجائے ایک جامع، پرامن اور حقیقی نمائندہ حکومت کے قیام پر توجہ دینی چاہیے تاکہ افغانستان میں دیرپا استحکام ممکن ہو۔یہ بیان اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان اب کسی بھی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی یا سرحد پار مداخلت پر خاموش نہیں بیٹھے گا اور اپنے قومی مفاد، خودمختاری اور داخلی استحکام کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر بھرپور ردعمل دے گا۔







Discussion about this post