وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے پہلے ہائی ٹیک فارم مکینائزیشن فنانسنگ پروگرام پورٹل کا افتتاح کر دیا۔ ایک ایسا جدید اقدام جو پنجاب میں زراعت کو نئی سمت دینے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ یہ پروگرام کسانوں، سروس فراہم کنندگان اور زرعی کمپنیوں کے لیے بلا سود قرضوں کے ذریعے جدید مشینری تک آسان رسائی فراہم کرے گا۔ صوبائی سیکریٹری زراعت کے مطابق، 12 اقسام کی ہائی ٹیک مشینری کے لیے 30 ملین روپے تک کے قرضے دیے جائیں گے، جن کی واپسی کے لیے چھ ماہ کی رعایتی مدت رکھی گئی ہے، جبکہ اقساط پانچ سال میں ادا کی جا سکیں گی۔

وزیرِ اعلیٰ نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام “پنجاب میں زرعی انقلاب کی شروعات ہے”، اور حکومت اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ صوبے کے کاشتکار جدید ٹیکنالوجی سے مستفید ہوں۔ حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ اس فنانسنگ اسکیم میں شامل مشینری چین، ترکیہ، اٹلی، جاپان، امریکہ، برازیل، اسپین اور بیلاروس کی معروف کمپنیوں کی ہے۔ ان مشینوں میں گندم کمبائن ہارویسٹرز، رائس پلانٹرز، نرسری مشینیں، سائیلج ہارویسٹرز، باغی درختوں کی تراش خراش کے آلات، اور جدید آبپاشی نظام شامل ہیں۔ یہ پورٹل کسانوں کو آن لائن سہولت فراہم کرے گا، جس کے ذریعے وہ ڈیجیٹل طور پر درخواستیں جمع کر سکتے ہیں۔دوسری جانب، کمشنر لاہور مریم خان نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے سخت اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ اُنہوں نے موٹروے کے اطراف فصلوں کی باقیات جلانے پر سیکشن 144 نافذ کرنے کا حکم دیا، تاکہ اسموگ کی شدت پر قابو پایا جا سکے۔ کمشنر نے اجلاس کے دوران انسدادِ اسموگ مہم، اینٹی ڈینگی آپریشنز، اور واٹر فلٹریشن سسٹمز کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ماہ میں دو بھٹے مسمار کیے گئے اور 14 صنعتی یونٹس کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔ مزید بتایا گیا کہ لاہور بھر میں 958 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں سڑکوں اور مین ہول کی مرمت جاری ہے، جبکہ واسا کے تمام 574 فلٹریشن پلانٹس فعال ہیں۔







Discussion about this post