امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے H-1B ویزا پروگرام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اس پروگرام کے تحت ویزا درخواستوں پر سالانہ ایک لاکھ ڈالر فیس مقرر کر دی ہے۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے ’Reforming the H-1B Nonimmigrant Visa Classification Program‘ کے عنوان سے نئی تجویز پیش کی ہے، جس میں ویزا کے اجرا اور شرائط کے حوالے سے متعدد اصلاحات شامل ہیں۔رپورٹس کے مطابق یہ فیس صرف نئی درخواستوں پر لاگو ہوگی، موجودہ ویزا ہولڈرز یا ان کی تجدید پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔نئی پالیسی کے تحت وہ غیر منافع بخش تحقیقی ادارے، یونیورسٹیاں اور صحت کے مراکز بھی متاثر ہو سکتے ہیں جو فی الحال کیپ استثنیٰ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ قدم امریکی محنت کشوں کے مفادات کے تحفظ، ویزا پروگرام میں شفافیت اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے۔ ان کے مطابق یہ اصلاحات امریکی روزگار کے مواقع کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ٹیکنالوجی کمپنیوں اور بین الاقوامی پیشہ ور افراد پر براہِ راست اثر پڑے گا کیونکہ وہ بڑی حد تک H-1B ویزا پر انحصار کرتے ہیں۔دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ نئی فیس اور شرائط سے عالمی سطح پر ہنرمند افراد کے امریکہ آنے میں مشکلات پیدا ہوں گی، تاہم انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ اقدامات امیگریشن نظام کو زیادہ منصفانہ اور شفاف بنانے کے لیے ضروری ہیں۔







Discussion about this post