بھارت میں بچوں کی اموات کے باعث پیدا ہونے والے بحران پر عالمی ادارہ صحت (WHO) نے بھارت سے وضاحت طلب کر لی ہے۔
ادارے نے استفسار کیا ہے کہ آیا وہ کھانسی کا سیرپ جس کے باعث بچوں کی اموات ہوئیں، کسی دوسرے ملک کو بھی برآمد کیا گیا تھا یا نہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے باضابطہ تصدیق موصول ہونے کے بعد ہی وہ اس دوا ’کولڈ رِف (Coldrif) کَف سیرپ’ کے حوالے سے عالمی سطح پر میڈیکل الرٹ جاری کرنے پر غور کرے گا۔

بھارت میں بچوں کی ہلاکتیں
بھارتی میڈیا کے مطابق، گزشتہ ایک ماہ کے دوران بھارت میں پانچ سال سے کم عمر 17 بچے زہریلا شربت پینے کے بعد ہلاک ہو چکے ہیں، جس نے ملک میں تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔لیبارٹری ٹیسٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ دوا میں ڈائیتھیلین گلائیکول (Diethylene Glycol) نامی خطرناک کیمیکل موجود تھا، جس کی مقدار اجازت یافتہ حد سے 500 گنا زیادہ تھی، جو بچوں کی ہلاکت کا باعث بنی۔
بھارتی ریاست تلنگانہ کی کارروائی
بھارتی ریاست تلنگانہ نے ڈائیتھیلین گلائیکول کی موجودگی کے بعد دو کھانسی کے شربتوں کے استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی ہے، اور عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس دوا سے اپنے بچوں کو بچائیں۔عالمی ادارہ صحت اور بھارت کی حکومت کی مشترکہ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئے گی کہ آیا زہریلا شربت بین الاقوامی سطح پر برآمد ہوا یا صرف ملکی سطح پر فروخت ہوا۔یہ واقعہ بچوں کی حفاظت، دواؤں کے معیار اور عالمی سطح پر دوا ساز کمپنیوں کی نگرانی کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کر رہا ہے۔







Discussion about this post