الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی حکومت کو ایک اہم تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی شناختی کارڈز پر درج نامکمل پتوں کو مکمل کیا جائے، تاکہ ووٹر لسٹوں کی تیاری اور انتخابات کے دوران انتظامی امور میں درپیش مشکلات کو ختم کیا جا سکے۔اعلامیے کے مطابق، الیکشن کمیشن نے تجویز دی ہے کہ دیہات اور بستیوں کی سطح پر گلیوں اور گھروں کو باقاعدہ نمبر الاٹ کیے جائیں۔ نئے اور پرانے شناختی کارڈز پر پتوں کی درستگی یقینی بنائی جائے تاکہ ووٹرز کی شناخت میں شفافیت اور درستگی ممکن ہو۔الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ گلی یا گھر نمبر موجود نہ ہونے کی وجہ سے تصدیق کا عمل مشکل ہو جاتا ہے، اور نامکمل ایڈریس ووٹر کی درست نشاندہی میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اس کمی کے باعث نہ صرف ووٹر لسٹوں کی تیاری متاثر ہوتی ہے بلکہ پولنگ اسٹیشنز کے قیام میں بھی مسائل جنم لیتے ہیں۔

مزید کہا گیا کہ اگر اسمبلیوں کی مدت ختم ہونے سے چھ ماہ قبل مردم شماری ہو، تو نئی حلقہ بندیاں مؤخر کر کے الیکشن کے بعد کی جائیں، تاکہ انتخابات میں تاخیر نہ ہو۔ بیان میں یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ انتخابات سے قبل ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے دوران عملے کی بھرتی ایک بڑا چیلنج رہا۔ اس کے حل کے طور پر تجویز دی گئی ہے کہ ووٹر رجسٹریشن اور تصدیق میں شامل تمام اہلکاروں کو الیکشن آفیشل قرار دیا جائے، تاکہ کسی بھی غلطی کی صورت میں ان کے خلاف باضابطہ کارروائی ممکن ہو۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، یہ اقدامات نہ صرف انتخابی نظام میں شفافیت لائیں گے بلکہ ووٹر کی شناخت کے عمل کو بھی جدید اور مؤثر بنائیں گے۔







Discussion about this post