صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے سندھ اور پنجاب کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو فی الفور قابو میں لانے کے لیے ہنگامی اقدامات کر دیے ہیں۔ صدر نے معاملے کی سنگینی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کو فوری طور پر کراچی طلب کر لیا اور بذریعہِ ٹیلی فون دونوں صوبائی حکومتوں کے باہمی تناؤ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ ایوانِ صدر کے ذرائع کے مطابق صدرِ مملکت نے معاملے کو تحمل، دانشمندی اور آئینی دائروں میں رہ کر حل کیا جانے کی ہدایت کی ہے تاکہ صوبائی مفادات اور قومی سلامتی دونوں محفوظ رہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ صدر خود معاملات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے وزیرِ داخلہ کو موقع پر رہ کر دونوں فریقین کے درمیان مصالحتی کردار ادا کرنے کی ہدایات دے چکے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ چند روز سے پنجاب اور سندھ حکومتوں کے مابین کڑی زبان بازی جاری تھی خصوصاً وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیانات پر پیپلزپارٹی نے سخت تحفظات ظاہر کیے اور قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کر کے معافی کا تقاضا کیا۔ مریم نواز نے اس ضمن میں صاف موقف اختیار کیا کہ وہ صوبے کے وقار اور جانِ عامہ کے تحفظ کے لیے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ صدرِ مملکت کی اس فوری مداخلت کا مقصد محض کشیدگی کم کرنا نہیں بلکہ ملک کے آئینی اداروں، وفاقی ہم آہنگی اور عوام کے مفاد کو مقدم رکھنا ہےتاکہ سیاسی اختلافات ملک کے عام فلاحی اور انتظامی امور پر سایہ نہ ڈالیں۔








Discussion about this post