بھارت میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نہ صرف عوام کے لیے وبالِ جان بن چکی ہے بلکہ اب یہ مسئلہ عالمی اسپورٹس ایونٹس میں بھی ملک کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہا ہے۔جمعے کے روز نئی دہلی کے جواہر لال نہرو اسٹیڈیم میں جاری ورلڈ پیرا ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے دوران دو غیر ملکی کوچز آوارہ کتوں کے حملے میں زخمی ہوگئے۔ جاپانی کوچ میکو اوکوماتسو اور کینیا کے کوچ ڈینس ماراگیا اس وقت ٹریک پر اپنے ایتھلیٹس کو تربیت دے رہے تھے جب آوارہ کتوں نے اچانک حملہ کر کے دونوں کو کاٹ لیا۔ زخمی کوچز کو فوری طور پر اسٹیڈیم کے میڈیکل روم میں ابتدائی طبی امداد دی گئی اور بعدازاں انہیں صفدر جنگ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں علاج کے بعد وہ اپنے ہوٹل واپس چلے گئے۔

آرگنائزنگ کمیٹی اور حکام کی ناکامی
چیمپئن شپ کی آرگنائزنگ کمیٹی کے مطابق انہوں نے اگست میں ہی دہلی میونسپل کارپوریشن کو آوارہ کتوں کے خاتمے کے لیے ہدایات جاری کر دی تھیں۔ اسٹیڈیم کے آغاز سے ہی کتوں کو پکڑنے والی گاڑیاں بھی موجود تھیں، مگر لوگوں کے جانب سے کتوں کو کھانا کھلانے کے باعث وہ دوبارہ اسٹیڈیم کے اطراف لوٹ آئے۔ بیان میں کہا گیا کہ اسی وجہ سے 3 اکتوبر کو یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
سپریم کورٹ کا متنازع فیصلہ
یاد رہے کہ دہلی میں آوارہ کتوں کا مسئلہ طویل عرصے سے زیرِ بحث ہے۔ گزشتہ اگست میں بھارتی سپریم کورٹ نے تمام آوارہ کتوں کو شیلٹرز میں رکھنے کا حکم دیا تھا، لیکن جانوروں کے حقوق کی تنظیموں کے شدید احتجاج کے بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ بعدازاں عدالت نے حکم دیا کہ کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن کے بعد انہیں دوبارہ چھوڑ دیا جائے، جبکہ ریبیز زدہ یا جارح مزاج کتوں کو شیلٹرز میں رکھا جائے۔
پانچواں واقعہ , بھارت کی ساکھ داؤ پر
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ چیمپئن شپ کے دوران کتوں کے حملے کا پانچواں واقعہ ہے۔ اس سے قبل ایک سیکیورٹی گارڈ اور دو بھارتی شہری بھی کتوں کے نشانے پر آچکے ہیں۔ایک طرف بھارت اولمپکس کی میزبانی کے خواب دیکھ رہا ہے اور دوسری جانب بین الاقوامی سطح کے اس ایونٹ میں آوارہ کتوں کے حملے نے بھارت کی تیاریوں اور انتظامی صلاحیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔







Discussion about this post