ریپبلکن کی جانب سے پیش کی گئی حکومت کے شٹ ڈاؤن کو روکنے کی تجویز سینیٹ میں ناکام ہو گئی، جس کے حق میں صرف 55 ووٹ آئے جبکہ مخالفت میں 45 ووٹ ہوئے۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ 60 ووٹ حاصل ہوں تاکہ شٹ ڈاؤن ٹالا جا سکے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت کے بڑے حصے کے اب صرف چند گھنٹوں میں فنڈنگ ختم ہونے کے بعد شٹ ڈاؤن کی طرف بڑھنے کا امکان ہے۔ رپورٹر اینا فیگائے کے مطابق کیپیٹل ہل پر آج 10 گھنٹے گزارے گئے، لیکن اس دوران کسی اہم پیش رفت کا امکان نہیں ہوا۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹس اب بھی حکومت کو کھلا رکھنے کے معاہدے کے قریب نہیں آئے۔ شٹ ڈاؤن کے آغاز کے بعد راہداریوں میں خاموشی چھا گئی ہے اور قانون ساز، عملہ اور صحافی اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی تصدیق
وائٹ ہاؤس کے آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ نے ایک یادداشت جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ آج رات 12 بجے حکومت بندش کا شکار ہو جائے گی اور اس تعطل کا ذمہ دار ڈیموکریٹس ٹھہرائے گئے ہیں۔یادداشت میں متاثرہ ایجنسیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ منظم انداز میں شٹ ڈاؤن کی سرگرمیاں شروع کریں اور ملازمین اپنے شیڈول کے مطابق ڈیوٹی پر حاضر رہیں تاکہ تعطل کے اثرات کم سے کم ہوں۔
شٹ ڈاؤن کاؤنٹ ڈاؤن
وائٹ ہاؤس نے اپنی ویب سائٹ پر شٹ ڈاؤن کا کاؤنٹ ڈاؤن کلاک بھی جاری کیا، جس میں اس تعطل کو ’ڈیموکریٹ شٹ ڈاؤن‘ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ امریکی عوام اس سے متفق نہیں ہیں۔دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہی ہیں، اگرچہ ریپبلکن کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول رکھتے ہیں، لیکن سینیٹ میں اخراجات کے بل کو منظور کرنے کے لیے درکار 60 ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔







Discussion about this post