اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق جہانگیری کو کام سے روکنے کے حکم پر سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے عبوری حکم کو معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔ بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی شامل تھے۔ دورانِ سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچوں ججز جسٹس طارق جہانگیری، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس اعجاز اسحاق اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز سپریم کورٹ پہنچے اور عام سائلین کے راستے سے عدالت میں داخل ہوئے۔ سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے سامنے معاملہ صرف اسلام آباد ہائیکورٹ کے عبوری حکم تک محدود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی یہ اصول طے کر چکی ہے کہ کسی جج کو جوڈیشل ورک سے نہیں روکا جا سکتا۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 18 اکتوبر کو بلا لیا گیا ہے۔ جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے پر دونوں جانب کے وکلا مکمل تیاری کے ساتھ آئیں، کیونکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے درخواست پر اعتراضات لگائے تھے، اس کے باوجود رٹ پٹیشن پر نمبر کیسے لگ گیا؟

جسٹس طارق جہانگیری کے وکیل منیر اے ملک نے مؤقف اپنایا کہ حالیہ فیصلے میں واضح کیا گیا تھا کہ جج کسی دوسرے جج کے خلاف رٹ جاری نہیں کر سکتا۔ اس پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ وہ فیصلہ مختلف حقائق پر مبنی تھا، اس کیس کے حالات الگ ہیں۔ واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے جسٹس طارق جہانگیری کو مبینہ جعلی ڈگری کے معاملے پر زیرِ سماعت درخواست کے باعث جوڈیشل ورک سے روک دیا تھا۔ درخواست ایڈووکیٹ میاں داؤد کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جو اب بھی زیر التوا ہے۔







Discussion about this post