پاکستانی طلبہ کے لیے عالمی معیار کی تعلیم کی راہیں مزید کشادہ ہو گئیں۔ آکسفورڈ اے کیو اے نے ملک میں تین نئے لازمی نصاب متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستانی طلبہ کو بین الاقوامی جی سی ایس ای امتحانات کے لیے جدید، بامقصد اور مقامی تناظر سے ہم آہنگ تیاری فراہم کرنے کی سمت ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ نئے نصاب کا مقصد طلبہ میں تنقیدی سوچ، تجزیاتی مہارت اور امتحانی تیاری کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ اس نصاب میں نہ صرف تحقیق اور آزاد مطالعے کو اہمیت دی گئی ہے بلکہ اجتماعی تعاون اور عالمی ترقی کے تقاضوں کو بھی مدِنظر رکھا گیا ہے۔ ڈائریکٹر سلمیٰ عادل نے کہا:
"اردو، اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کے امتحانات اور نصابی کتب متعارف کروانا ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم اسکولوں کو ایسے وسائل فراہم کر رہے ہیں جو تعلیم کو زیادہ کارآمد اور مؤثر بنا سکیں۔”
دوسری جانب، کیمبرج ایگزامینیشن بورڈ نے بھی ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ پاکستان میں پہلی بار اے اور او لیول کے طلبہ کو اپنی آنسر اسکرپٹس دیکھنے کی سہولت مفت فراہم کر دی گئی ہے۔ اس عمل کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا ہے تاکہ طلبہ اپنی تحریریں دیکھنے کے بعد ضرورت پڑنے پر اسکروٹنی کی درخواست دے سکیں۔ کیمبرج پاکستان کی کنٹری منیجر عظمیٰ یوسف نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا:
"اب ہر انرولڈ طالب علم اپنی امتحانی کاپی اسکول کے ذریعے دیکھ سکتا ہے، یہ سہولت مکمل طور پر مفت ہے۔ کیمبرج اس عمل پر کسی قسم کا کوئی چارجز وصول نہیں کرے گا۔”
انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت دنیا بھر میں اے اور او لیول کی سطح پر سب سے زیادہ انرولمنٹ پاکستان میں ہے، جو ایک لاکھ تیس ہزار طلبہ تک جا پہنچی ہے۔ اس کے بعد امریکا دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ چین، بھارت اور دبئی بالترتیب تیسرے، چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں۔عظمیٰ یوسف کا کہنا تھا کہ کیمبرج کے نصاب میں غیر ضروری اور اضافی مواد شامل نہیں کیا جاتا، تاکہ طلبہ غیر ضروری بوجھ سے آزاد رہیں اور صرف وہی مواد پڑھیں جو کامیابی کے لیے واقعی ضروری ہے۔







Discussion about this post