وزیرِاعظم محمد شہباز شریف آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ اجلاس کے باضابطہ آغاز کی تقریب میں شرکت کے علاوہ وزیراعظم امریکا اور قطر کی میزبانی میں منعقد ہونے والے عرب و اسلامی ممالک کے خصوصی سربراہی اجلاس میں بھی شریک ہوں گے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دنیا کے کئی اہم عالمی رہنما موجود ہوں گے۔ اس اجلاس میں وزیرِاعظم کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے، جو پاکستان کی سفارتی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اس تاریخی دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کا شیڈول نہایت مصروف اور جامع ہے۔ وہ آسٹریا کی چانسلر کرسٹینا اسٹاکر، کویت کے ولی عہد و وزیراعظم شیخ صباح الخالد، عالمی بینک کے صدر اجے بنگا اور آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے علیحدہ ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں اقتصادی تعاون کے فروغ، غیر ملکی سرمایہ کاری اور ترقیاتی اقدامات کے امکانات پر تبادلہ خیال ہوگا۔

وزیراعظم شہباز شریف عالمی ترقیاتی اقدام (Global Development Initiative – GDI) کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، جہاں وہ پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے ترقیاتی اہداف پر خطاب کریں گے۔ یہ دورہ نہ صرف پاکستان کے لیے عالمی برادری کے ساتھ روابط کو مزید مستحکم کرنے کا ذریعہ بنے گا بلکہ قومی معیشت کو درپیش چیلنجز کے حل اور ترقی کے نئے مواقع تلاش کرنے میں بھی سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔







Discussion about this post