چمن بارڈر کے راستے افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا عمل ایک روزہ تعطل کے بعد دوبارہ بحال ہو گیا، جو جمعرات کو ایک مہلک بم دھماکے کے بعد روک دیا گیا تھا۔ دھماکہ بارڈر ٹاؤن کے ایک پرہجوم ٹیکسی اسٹینڈ کے قریب واقع عارضی دکانوں کے پاس ہوا، جس میں ابتدائی طور پر 4 افراد جاں بحق اور 2 زخمی بعد میں دم توڑ گئے۔ اس وقت بڑی تعداد میں افغان خاندان وطن واپس جانے کے لیے بارڈر پر موجود تھے، اور حکام نے فوری طور پر واپسی کا عمل معطل کر کے انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ جمعہ کو سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو مکمل کلیئر کرنے کے بعد نقل و حرکت دوبارہ بحال کر دی۔ حکام نے کہا کہ افغان پناہ گزینوں کو دوبارہ بارڈر کراسنگ کے قریب آنے کی اجازت دینے سے پہلے پورے علاقے کی مکمل جانچ پڑتال کی گئی۔ اسسٹنٹ کمشنر چمن، امتیاز بلوچ نے تصدیق کی کہ دھماکا ٹیکسی اسٹینڈ پر واقع عارضی دکانوں کے قریب ہوا۔ عینی شاہد اور صحافی اصغر اچکزئی نے بتایا کہ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ لاشوں کے چیتھڑے ہر طرف بکھر گئے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھماکا خیز مواد دکانوں کے باہر نصب کیا گیا تھا۔ محکمہ داخلہ بلوچستان نے جانی نقصان کی تصدیق کرتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ تفتیش میں بھرپور تعاون کریں۔پاکستان نے گزشتہ سال غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کی مہم شروع کی تھی، جس کا مقصد سیکیورٹی خدشات اور سخت سرحدی انتظامات تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 10 لاکھ سے زائد افغان شہری بغیر قانونی دستاویزات کے مقیم ہیں، اور مہم کے تحت ہزاروں افراد چمن اور طورخم بارڈر کراسنگ کے ذریعے واپس بھیجے جا چکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ مہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ صرف وہی افغان شہری پاکستان میں رہیں جن کے پاس درست ویزے اور پناہ گزین کارڈ موجود ہوں۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے پالیسی کو اچانک اور سخت قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ واپس جانے والے افراد افغانستان میں غیر یقینی مستقبل، معاشی مشکلات اور بنیادی سہولیات تک محدود رسائی کا سامنا کر سکتے ہیں۔







Discussion about this post