سندھ کے ضلع نوشہروفیروز میں دریائے سندھ کی بپھری لہروں نے کچے کے دیہات کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ گاؤں اور کھیت پانی میں ڈوب چکے ہیں، فصلیں تباہ ہو گئی ہیں اور ہزاروں لوگ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ پرانی منجٹھ کے کچے میں واقع گاؤں شیر محمد کھوسو کو جانے والے تمام زمینی راستے منقطع ہو گئے ہیں۔ پانی جمع ہونے سے متاثرین ملیریا اور دیگر وبائی امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ نوشہروفیروز کے کاشتکاروں نے بتایا کہ 2 ہزار ایکڑ سے زائد پر لیموں کی فصل میں کئی فٹ پانی جمع ہو گیا ہے۔ متاثرین نے سندھ حکومت سے فوری امدادی پیکج کا مطالبہ کیا ہے۔ گھوٹکی کے کئی دیہات میں بھی زمینی رابطہ منقطع ہے اور متاثرین کو شہر جانے کے لیے کشتی پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ سیلابی پانی کی سطح آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے، مگر قادرپور، رائونتی اور آندل سندرانی کے کچے کے علاقوں میں پانی ابھی تک موجود ہے۔ نواب شاہ میں بھی دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور ریسکیو ٹیمیں سیلاب میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔
پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی سنگین صورتحال
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) پنجاب کی رپورٹ کے مطابق دریائے راوی، ستلج اور چناب میں شدید سیلاب کے نتیجے میں 127 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔ 4,700 سے زائد موضع جات اور تقریباً 47 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ شدید سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 319 ریلیف کیمپس اور 407 میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے ہیں، جبکہ 26 لاکھ سے زائد افراد اور 20 لاکھ 90 ہزار جانور محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے ہیں۔ پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ جلال پور پیر والا کے قریب موٹروے ایم-5 کا ایک اور حصہ ٹوٹ گیا، جس کی وجہ سے ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ لاکھوں افراد کیمپوں میں بے بسی کی تصویر بن گئے ہیں، اور 90 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلیں اور باغات تباہ ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں سبزیاں اور پھل مہنگے ہو گئے ہیں۔ ڈرون کیمروں سے لی گئی ویڈیوز میں صاف نظر آ رہا ہے کہ ہر طرف پانی ہی پانی ہے، گھروں کو جزیروں میں بدل دیا گیا ہے اور متاثرین گھٹنوں تک پانی میں گزرنے پر مجبور ہیں۔ خانیوال کی تحصیل کبیروالا میں سیلاب نے ریلوے لائن کو بری طرح متاثر کیا، جہاں گزشتہ 15 روز سے ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہے۔ ریسکیو اور ریلیف آپریشنز پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں، اور متاثرین کی مدد کے لیے حکومت اور مقامی ادارے دن رات کوشاں ہیں۔







Discussion about this post