پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایشیا کپ میں بھارتی ٹیم اور میچ ریفری کے رویے پر بروقت ردعمل نہ دینے پر ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ عثمان واہلہ کو عہدے سے ہٹا دیا۔

محسن نقوی کا مؤقف
پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے واضح کیا:
"میرے لیے پاکستان کی عزت اور وقار سے بڑھ کر کچھ نہیں۔”
There is nothing more important to me than the honor and prestige of my country 🇵🇰
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) September 15, 2025
تنازعہ کیسے شروع ہوا؟
ذرائع کے مطابق ٹاس کے وقت میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ نے پاکستانی کپتان سلمان آغا کو کہا کہ "شیک ہینڈ نہیں ہوگا”۔ اس سے پہلے انہوں نے پاکستان کے میڈیا منیجر کو ہدایت دی تھی کہ یہ سب مناظر ریکارڈ نہ کیے جائیں۔ میچ کے بعد پاکستانی منیجر نوید اکرم چیمہ نے ٹورنامنٹ ڈائریکٹر اینڈریو رسل کے سامنے تحفظات رکھے تو جواب ملا کہ یہ سب ہدایات بھارتی بورڈ اور دراصل بھارتی حکومت کی جانب سے ملی ہیں۔
پی سی بی کا احتجاج
پی سی بی نے اس معاملے پر آئی سی سی اور ایم سی سی کو خط لکھتے ہوئے کہا کہ:
-
میچ ریفری نے اسپرٹ آف دی گیم کی خلاف ورزی کی۔
-
آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کو نظرانداز کیا گیا۔
-
ایم سی سی قوانین کے مطابق میچ ریفری اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہے۔
خط میں مزید کہا گیا کہ یہ رویہ "بڑی خلاف ورزی” ہے اور اس سے کھیل کی روح کو نقصان پہنچا ہے۔
عثمان واہلہ کی برطرفی
پی سی بی نے موقف اختیار کیا کہ بھارتی ٹیم اور میچ ریفری کے غیر مناسب رویے پر تاخیر سے ردعمل دینے اور آئی سی سی کو بروقت خط نہ لکھنے کی وجہ سے ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ عثمان واہلہ کو فوری طور پر معطل اور برطرف کیا گیا۔
پس منظر
یہ تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پی سی بی نے دھمکی دی تھی کہ اگر میچ ریفری کو تبدیل نہ کیا گیا تو پاکستان ایشیا کپ میں مزید کوئی میچ نہیں کھیلے گا۔







Discussion about this post