اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور مسلم امریکن لیڈرشپ الائنس (MALA) کے زیرِ اہتمام ایک اعلیٰ سطحی تقریب منعقد ہوئی جس میں مقررین نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے اعلان کو عالمی وعدوں اور قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ، سفیر عاصم افتخار احمد نے خبردار کیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے نتائج خطے کے امن و استحکام کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے بنیادی اصولوں کے بھی منافی ہے۔پاکستان کے ڈپٹی مستقل مندوب، سفیر عثمان جادون نے زور دیا کہ سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد اور اس کی بحالی کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ، عالمی بینک اور سول سوسائٹی کو چاہیے کہ وہ معاہدے کے نفاذ، مذاکرات کے فروغ اور مشترکہ حل تلاش کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔
ممکنہ عالمی ردعمل
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چونکہ سندھ طاس معاہدے کا ضامن عالمی بینک ہے، لہٰذا اس کا باضابطہ ردعمل نہایت اہمیت کا حامل ہوگا۔ بین الاقوامی برادری بھی جنوبی ایشیا میں پانی کے وسائل کو ہتھیار بنانے کے خطرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جب کہ توقع ہے کہ اقوام متحدہ کی متعلقہ کمیٹیاں جلد اس مسئلے پر بحث کریں گی۔پاکستان نے ایک بار پھر عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے غیر قانونی اقدامات کا نوٹس لے اور خطے میں امن و استحکام کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔







Discussion about this post