امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت دنیا بھر میں امریکی شہریوں کو غیرقانونی طور پر حراست میں لینے کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ اس حکم نامے کے مطابق، ایسے اقدامات میں ملوث غیر ملکی حکومتوں کو بلیک لسٹ بھی کیا جا سکے گا۔
وزیر خارجہ کو خصوصی اختیارات
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس حکم نامے کے تحت وزیر خارجہ کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی ملک کو "غیر قانونی حراست کے ریاستی سرپرست” کے طور پر نامزد کریں۔ یہ نامزدگی ان ممالک پر لاگو ہوگی جو امریکی شہریوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینے یا ایسی سرگرمیوں میں معاونت کے مرتکب پائے جائیں۔
ممکنہ پابندیاں اور اقدامات
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ نامزد ممالک کے خلاف موزوں اقدامات اٹھائیں، جن میں شامل ہو سکتے ہیں:
-
تجارتی اور برآمدی پابندیاں
-
سفری پابندیاں
-
ان ممالک کے شہریوں کا امریکہ میں داخلہ روکنا
-
اور موجودہ قوانین کے تحت مزید اقدامات
ان اقدامات کا مقصد امریکی شہریوں کو غیر قانونی گرفتاریوں سے محفوظ رکھنا اور ایسے اقدامات کا سخت جواب دینا ہے۔
نامزدگی ختم کرنے کی گنجائش
حکم نامہ یہ بھی اجازت دیتا ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی حکومت:
-
غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے امریکی شہریوں کو رہا کر دے،
-
اپنی قیادت یا پالیسیوں میں مثبت تبدیلی لے آئے،
-
اور مستقبل میں خلاف ورزیوں سے باز رہنے کی قابلِ بھروسہ ضمانت فراہم کرے،
تو وزیر خارجہ اس ملک کی نامزدگی ختم کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
امریکی خودمختاری کا تحفظ
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق صدر ٹرمپ اس اقدام کے ذریعے غیر ملکی مخالفین کو واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ امریکی خودمختاری اور قیادت کو دباؤ ڈالنے کے لیے "غیر قانونی حراستوں” کا استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔







Discussion about this post