جوئے کی ترغیب اور فحش مواد پھیلانے کے سنگین الزامات پر گرفتار معروف یوٹیوبر سعد الرحمٰن عرف ڈکی بھائی جیل منتقل ہونے کے بعد اب عدالت سے ریلیف لینے کے لیے سرگرم ہوگئے ہیں۔لاہور کی ضلعی عدالت نے پیر کو این سی سی آئی اے کی جانب سے مزید 8 دن کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کردی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو کی عدالت میں کارروائی کے دوران تفتیشی افسر شعیب ریاض نے ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی تھی، جس کی ڈکی بھائی کے وکیل نے سخت مخالفت کی۔ عدالت نے مؤقف سننے کے بعد یوٹیوبر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
ضمانت کی درخواست
بعد از گرفتاری ضمانت کے لیے ڈکی بھائی کے وکیل ایڈووکیٹ چوہدری عثمان علی نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497 کے تحت درخواست دائر کی۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ:
-
ایف آئی آر بدنیتی پر مبنی اور بے بنیاد ہے۔
-
جن ایپلیکیشنز کی تشہیر کا الزام ہے، وہ اس وقت غیر قانونی قرار نہیں دی گئی تھیں۔
-
تفتیشی ادارے کوئی ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے۔
-
ایف آئی آر میں شامل تعزیرات پاکستان کی دفعات 294-بی اور 420 قابلِ ضمانت ہیں۔
-
متاثرہ فریق یا کوئی مالی نقصان اٹھانے والا عدالت میں پیش نہیں ہوا۔
-
ڈکی بھائی کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور نہ ہی وہ ملک سے فرار ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
مقدمے کی تفصیل
یوٹیوبر کے خلاف مقدمہ 17 اگست کو این سی سی آئی اے لاہور کی مدعیت میں درج ہوا۔ ان پر الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کی دفعات 13 (جعلسازی)، 14 (فراڈ)، 25 (اسپام) اور 26 (اسپوفنگ) کے علاوہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 294-بی اور 420 کے تحت الزامات عائد کیے گئے۔ یہ مقدمہ دراصل 13 جون کی ایک انکوائری پر مبنی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ کئی یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز مالی فائدے کے لیے عوام میں جوا اور بیٹنگ ایپس کی تشہیر کر رہے تھے۔
دیگر انفلوئنسرز بھی زد میں
این سی سی آئی اے نے اس کیس میں مزید کئی مشہور شخصیات کو بھی نوٹس جاری کیے ہیں، جن میں یوٹیوبر رجب بٹ، ٹک ٹاکر اقرا کنول اور کانٹینٹ کریئیٹر محمد انس علی شامل ہیں۔ انہیں آج (منگل) تحقیقات کے لیے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔







Discussion about this post