دریائے چناب کے بپھرے پانی نے جنوبی پنجاب کو نئی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ ملتان سمیت کئی اضلاع کے لیے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے، اور حکام شہری علاقوں کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے شیر شاہ بند میں شگاف ڈالنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
اگلے 48 گھنٹے، فیصلہ کُن لمحے
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیڈ تریموں سے اٹھنے والا آبی ریلا اب ملتان کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر یہ دباؤ قابو سے باہر ہو گیا تو شہر کو شدید ترین خطرے کا سامنا ہوگا۔ اسی لیے بند کو کاٹ کر پانی کو گگرا کچور، موضع ہمر اور دیگر قریبی علاقوں کی طرف موڑنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے تاکہ تباہی کا رخ شہر سے دور کیا جا سکے۔
گیلانی کی اپیل
سابق وزیرِاعظم اور ملتان کے ایم این اے سید یوسف رضا گیلانی نے فیس بک پیغام میں شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وقت ضائع نہ کریں، محفوظ مقامات کی طرف نکل جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قربانی بڑی تباہی کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔
پنجند پر بیک واٹر کا قہر
پانی کا دباؤ اتنا شدید ہے کہ دریائے سندھ نے چناب، ستلج اور راوی کے پانی کو واپس دھکیلنا شروع کر دیا ہے۔ پنجند ہیڈ ورکس اپنی صلاحیت کھو بیٹھا ہے اور پانی اُلٹی سمت میں بہہ رہا ہے۔ پیر کی رات وہاں ساڑھے چھ لاکھ کیوسک سے زائد بہاؤ ریکارڈ کیا گیا، جو پورے خطے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
ہزاروں زندگیاں متاثر
پنجاب کے 26 اضلاع میں اب تک 4300 بستیاں ڈوب چکی ہیں، 63 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور لاکھوں متاثرین کو ریسکیو ٹیمیں کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔ صرف ملتان میں 27 ہزار بار کشتیوں نے لوگوں کو نکالا۔ اب تک ساڑھے 21 لاکھ متاثرین کو ریلیف کیمپس تک پہنچایا گیا ہے۔
ڈیموں کی صورتحال
منگلا ڈیم 88 فیصد اور تربیلا 100 فیصد بھر چکے ہیں، جب کہ بھارت میں بھاکڑا، پونگ اور تھیئن ڈیم بھی خطرناک حد تک بھرے ہوئے ہیں۔ دریائے ستلج پر گنڈا سنگھ والا ہیڈ ورکس مسلسل بلند ترین سطح کے سیلاب کا سامنا کر رہا ہے۔
بارشوں نے جل تھل ایک کر دیا
لاہور میں جیل روڈ سمیت کئی مقامات پر 100 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی، جب کہ فیصل آباد میں موسلا دھار بارش نے 30 سالہ ریکارڈ توڑ دیا۔ شہری سیلاب نے زندگی مفلوج کر دی۔
کشتی حادثہ—غمگین منظر
رحیم یار خان کے علاقے نوروالا میں سیلابی پانی میں ایک کشتی الٹ گئی۔ کشتی پر سوار 28 افراد میں سے 3 جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جب کہ 8 سے 10 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ یہ واقعہ بپھرے پانی کے سامنے انسانی بے بسی کی دل دہلا دینے والی یاد دہانی ہے۔
حکومتی اقدامات
وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی ہے، جو دو ہفتوں میں سیلابی نقصانات اور بحالی کی فوری ضروریات پر رپورٹ پیش کرے گی۔







Discussion about this post