مشہور ٹک ٹاکر سامعہ حجاب نے اپنی حالیہ ویڈیو میں پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ ان کی حسن زاہد کے ساتھ منگنی ہوئی تھی، تاہم ان کے رویے اور مبینہ طور پر جارحانہ طرزِ عمل کی وجہ سے یہ رشتہ ختم ہو گیا۔ سامعہ نے کہا کہ جب انہوں نے پہلی مرتبہ حسن زاہد کی ہراسانی کے بارے میں عوام اور پولیس کو بتایا تو سب نے ان کا ساتھ دیا، مگر اس دوران کچھ افراد نے ان کے کردار پر سوالات اٹھائے اور الزام لگایا کہ وہ حسن کے ساتھ تعلق میں تھیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ:
-
حسن نے انہیں گاڑی میں شادی کی پیشکش کی تھی اور اس وقت انہوں نے 5 سے 6 سال کا وقت مانگا، جس سے دونوں خاندان واقف تھے۔
-
منگنی کے دوران انہیں صرف ایک سونے کی انگوٹھی دی گئی، اس کے علاوہ کسی قسم کے پیسے یا تحائف نہیں ملے۔
-
رویے کا اندازہ ہونے پر انہوں نے منگنی ختم کر دی، جس کے بعد حسن کا رویہ مبینہ طور پر جارحانہ اور پرتشدد ہو گیا۔
سامعہ کے مطابق حسن نے انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی، جان سے مارنے اور حتیٰ کہ تیزاب پھینکنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ:
"اگر نکاح بھی ہو تو کیا مرد کو یہ حق ملتا ہے کہ وہ لڑکی کو زبردستی اس کے گھر کے باہر سے اٹھا لے؟”
انہوں نے مزید کہا کہ حسن زاہد پولیس کی حراست میں اپنے جرائم کا اعتراف کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رشتے اس وقت ختم ہو جاتے ہیں جب مرد تشدد کرے کیونکہ عورت ایسے مرد کو ہرگز برداشت نہیں کر سکتی۔
مقدمہ اور گرفتاری
سامعہ حجاب نے بتایا کہ حسن کے خلاف چوری اور جعلی گاڑیوں کے مقدمات پہلے سے موجود ہیں۔ واقعے کے بعد اسلام آباد کے تھانہ شالیمار میں مقدمہ درج ہوا، پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کیا اور عدالت میں پیش کیا۔ عدالت میں ملزم نے کہا: “سر، مجھ سے غلطی ہوگئی ہے“، جس کے بعد اسے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر سامعہ اور حسن کی پرانی ویڈیوز وائرل ہوئیں، جن میں دونوں کا تعلق دوستی سے بڑھ کر دکھائی دیتا ہے۔ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ سامعہ حسن سے پیسے لے رہی تھیں اور اس کے اسکرین شاٹ بھی شیئر کیے گئے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ حسن اغوا کرنے نہیں بلکہ اپنے پیسے واپس لینے گیا تھا۔
سامعہ حجاب کا پیغام
سامعہ نے اپنے مداحوں اور عوام سے اپیل کی کہ اگر لوگ ساتھ نہیں دے سکتے تو کم از کم ان کی زندگی مشکل نہ بنائیں۔ انہوں نے لڑکیوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا:
"ڈرنا چھوڑ دیں اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھائیں، ورنہ وہ بھی ان لڑکیوں کی فہرست میں شامل ہو جائیں گی جنہیں بعد میں انصاف نہیں ملتا۔”







Discussion about this post