-
بیجنگ کے تیانمن اسکوائر میں دوسری عالمی جنگ میں جاپان کی شکست کے 80 برس مکمل ہونے پر ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی پریڈ کا انعقاد کیا گیا، جس میں 50 ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے۔

-
اعلیٰ عالمی قیادت کی موجودگی
صدر شی جن پنگ کے ساتھ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن اور پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف بھی شریک تھے۔ -
شی جن پنگ کا تاریخی خطاب
صدر شی نے کہا کہ ”انسانیت امن اور جنگ، مکالمہ اور تصادم کے فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے“۔ انہوں نے چینی عوام کو ”تاریخ کے درست رخ پر ڈٹا ہوا“ قرار دیا۔ -
جدید ہتھیاروں کی نمائش
پریڈ میں ہائپر سونک میزائل، زیرآب ڈرون، اور ہتھیاروں سے لیس ’روبوٹ وولف‘ جیسے جدید ترین ہتھیار پیش کیے گئے۔ اختتام پر 80 ہزار سفید پرندے امن کی علامت کے طور پر آزاد کیے گئے۔ -
شی کا ماﺅ زے تنگ اسٹائل لباس
صدر شی جن پنگ نے سرخ قالین پر 25 سے زائد عالمی رہنماؤں کا استقبال کیا۔ ان کی اہلیہ پینگ لی یوان نے مہمانوں کو انگریزی میں خوش آمدید کہا۔ -
ٹرمپ کا ردِعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں کہا: ”میری طرف سے پیوٹن اور کِم جونگ اُن کو سلام کہیے جب آپ امریکا کے خلاف سازش کر رہے ہیں“۔ -
تائیوان کا مؤقف
تائیوان کے صدر لائی چنگ-تے نے کہا کہ ”تائیوان امن کو بندوق کی نالی سے نہیں مناتا“ اور شہریوں کو پریڈ میں شرکت سے روکا گیا۔ -
نئے عالمی نظام کا ویژن
شی جن پنگ نے دوسری عالمی جنگ کو چین کی عظیم نشاۃ ثانیہ کا موڑ قرار دیتے ہوئے بالادستی اور طاقت کی سیاست کے خلاف نئے عالمی اتحاد پر زور دیا۔ -
روس، چین اور شمالی کوریا کا ممکنہ اتحاد
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اجتماع تینوں ممالک کے دفاعی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ روس اور شمالی کوریا کا حالیہ دفاعی معاہدہ اور چین کی قربت ایشیا پیسفک کے توازن کو بدل سکتی ہے۔ -
کِم جونگ اُن کی تاریخی شرکت
66 برس بعد کسی شمالی کوریائی رہنما نے چینی فوجی پریڈ میں شرکت کی۔ کِم اپنی بیٹی جو اے کے ساتھ بیجنگ پہنچے لیکن پریڈ کے دوران وہ ان کے ساتھ نظر نہیں آئیں۔ 







Discussion about this post