تشدد اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے مقدمے میں صوبائی وزیرِ بلدیات سعید غنی کے بھائی اور چیئرمین چنیسر ٹاؤن فرحان غنی سمیت تین ملزمان کو پولیس نے رہا کر دیا۔ ملزمان کے وکیل وقار عالم عباسی نے بتایا کہ مدعی حافظ سہیل احمد نے مقدمہ واپس لے لیا ہے اور اس حوالے سے تحریری درخواست تفتیشی افسر (آئی او) کے حوالے کر دی گئی ہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ مقدمہ واپس لیے جانے کے بعد ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کی ضرورت نہیں، صرف تفتیشی افسر رہائی کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں گے۔ واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ 30 اگست تک منظور کیا تھا، تاہم مقدمہ واپس لیے جانے پر پولیس نے انہیں رہا کر دیا۔ پولیس کے مطابق 24 اگست کو فیروز آباد تھانے میں فرحان غنی، قمرالدین، شکیل چانڈیو، سکندر اور روحان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت اقدامِ قتل اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق مدعی حافظ سہیل احمد، جو ایک سرکاری ملازم ہیں، 22 اگست کو شاہراہِ فیصل پر فائبر کیبل بچھانے کے کام کی نگرانی کر رہے تھے کہ اچانک تین گاڑیوں میں سوار 20 سے 25 افراد آئے اور ان پر تشدد کیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ بعد ازاں فرحان غنی اور ان کے ساتھیوں نے خود کو فیروز آباد تھانے میں پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔ اس معاملے پر صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر مؤقف دیا تھا کہ ان کے بھائی فرحان غنی اور ساتھیوں کا کسی شخص سے جھگڑا ہوا تھا جس پر اس شخص نے مقدمہ درج کروایا، جو اس کا قانونی حق تھا۔







Discussion about this post