پاکستانی فلم انڈسٹری کی ماضی کی مقبول ہیروئن شبنم نے حکومتِ پاکستان سے فرمائش کی ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہِ راست فضائی سفر بحال کیا جائے۔ برسوں سے دونوں ممالک کے درمیان ڈائریکٹ پروازیں معطل ہیں، جس کے باعث مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ گزشتہ دنوں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے تقریباً ڈیڑھ دہائی بعد ڈھاکا کا تاریخی دورہ کیا۔ اپنے اس دورے کے دوران انہوں نے بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس، مشیر خارجہ توحید حسین اور دیگر اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔
Deputy Prime Minister and Foreign Minister, Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 attended a reception, hosted in his honour by the High Commissioner for Pakistan to Bangladesh, Mr Imran Haider. At the reception , the DPM/FM interacted with a number of personalities from… pic.twitter.com/yY82J0YAX3
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 24, 2025
اس موقع پر پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان چھ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط ہوئے۔ ڈھاکا میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں پاکستانی فلموں اور ڈراموں کا تذکرہ ہوا تو اس محفل میں موجود پاکستانی سینما کی لازوال ہیروئن شبنم بھی موضوعِ گفتگو بن گئیں۔ اسحٰق ڈار نے نہ صرف شبنم کی فنکارانہ خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا بلکہ پاکستان فلم انڈسٹری میں ان کے کردار کو سنہری ورثہ قرار دیا۔ اسی موقع پر شبنم نے نائب وزیر اعظم سے ملاقات میں اپنی دیرینہ خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا:
"آج بھی میرے پاکستانی مداح مجھے فون کرتے ہیں، باتیں کرتے ہیں اور بار بار پاکستان آنے کی دعوت دیتے ہیں، لیکن براہِ راست فضائی پرواز نہ ہونے کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو پاتا۔ میری خواہش ہے کہ حکومت پاکستان فوری طور پر پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ڈائریکٹ فلائٹس بحال کرے۔”
یاد رہے کہ شبنم، جن کا اصل نام جھرنا باسک ہے، نے 1960 کی دہائی میں پاکستانی فلم انڈسٹری میں قدم رکھا اور مسلسل تین دہائیوں تک اردو فلموں کی سب سے بڑی ہیروئن رہیں۔ انہوں نے وحید مراد، محمد علی، ندیم اور دیگر مقبول اداکاروں کے ساتھ 200 سے زائد فلموں میں کام کیا اور اپنی شاندار اداکاری پر درجنوں ایوارڈز بھی حاصل کیے۔ شبنم کی شادی 1964 میں برصغیر کے نامور موسیقار روبن گھوش سے ہوئی تھی۔ بعد ازاں وہ 1996 میں بنگلہ دیش منتقل ہو گئیں، لیکن پاکستان سے ان کا رشتہ اور محبت آج بھی قائم ہے۔ 2012 اور پھر 2017 میں وہ پاکستان کا دورہ بھی کر چکی ہیں۔پاکستانی شائقین کے دلوں پر آج بھی راج کرنے والی شبنم کی یہ خواہش دونوں ممالک کے عوام کے جذبات کی ترجمانی ہے۔ ان کی فرمائش اس امید کو روشن کرتی ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ڈائریکٹ پروازوں کی بحالی جلد ہی حقیقت کا روپ دھار لے گی۔







Discussion about this post