وزیراعظم پاکستان شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 25ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے چین کے تاریخی دورے پر روانہ ہوگئے۔ یہ دورہ 30 اگست سے 4 ستمبر تک جاری رہے گا، جس میں وہ نہ صرف علاقائی قیادت کے اجلاس سے خطاب کریں گے بلکہ پاک-چین تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اہم ملاقاتیں بھی کریں گے۔ وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ اور مشیر طارق فاطمی بھی موجود ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں وہ خطے کے امن، خوشحالی اور مشترکہ تعاون کے فروغ پر پاکستان کا موقف پیش کریں گے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ:
"چین کے تاریخی دورے کے دوران شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت اجلاس میں شرکت کروں گا۔ چین کے ساتھ موسمی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنائیں گے۔”
بیجنگ میں وزیراعظم نہ صرف صدر شی جن پنگ اور چینی وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقات کریں گے بلکہ دوسری جنگِ عظیم میں فاشزم کی شکست کی 80ویں سالگرہ کی تقریب اور فوجی پریڈ میں بھی شریک ہوں گے۔ اس موقع پر وہ عالمی رہنماؤں سے ملاقات کرکے علاقائی اور کثیرالجہتی تعاون کے نئے امکانات پر بات چیت کریں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے دورے کے دوران پاک-چین تعلقات کے کثیرالجہتی پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔ چین میں تاجروں اور کارپوریٹ ایگزیکٹوز سے ان کی ملاقاتیں بھی شیڈول ہیں، جہاں تجارتی، معاشی اور سرمایہ کاری کے تعاون پر گفتگو ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بیجنگ میں پاک-چین ’بی ٹو بی‘ انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب بھی کریں گے۔
Departing on a historic visit to China! Will participate in the SCO Council of Heads of State Meeting in Tianjin and attend the 80th anniversary of the victory over Fascism in WWII in Beijing. I look forward to meeting H.E. President Xi Jinping and other world leaders to further… pic.twitter.com/lCD5ewH2pE
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) August 30, 2025
دفتر خارجہ کے مطابق، وزیراعظم کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے روابط کے تسلسل کا حصہ ہے۔ اس دوران سی پیک کے دوسرے مرحلے (CPEC Phase-II) میں پیشرفت پر خصوصی بات چیت ہوگی، جس سے پاک-چین شراکت داری ایک نئے دور میں داخل ہوگی۔ یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور چین کے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا موقع ہے بلکہ خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے نئے امکانات بھی روشن کرے گا۔







Discussion about this post