وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایک ہنگامی اجلاس میں پنجاب میں شدید بارشوں اور دریائے چناب، ستلج اور راوی میں ممکنہ سیلابی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
این ڈی ایم اے کی بریفنگ
اجلاس میں چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وزیراعظم کو متاثرہ علاقوں میں پیشگی انخلا، متاثرین کو محفوظ مقامات تک پہنچانے اور امدادی سامان کی ترسیل کے اقدامات پر بریفنگ دی۔
ہنگامی اطلاع:خانکی ہیڈورکس پر شدید سیلابی صورتحال:
اپڈیٹ: 27 اگست، دوپہر 12 بجےدریائے چناب میں خانکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 10 لاکھ کیوسک سے تجاوز،جبکہ ہیڈ ورکس کی ڈیزائن کردہ گنجائش 8 لاکھ کیوسک۔ شدید سیلابی ریلے کے باعث ہیڈ ورکس کے ہائیڈرولک ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا۔ pic.twitter.com/JhX8BS9D2j
— NDMA PAKISTAN (@ndmapk) August 27, 2025
وزیراعظم کی ہدایات
وزیراعظم نے کہا کہ:
-
وفاقی حکومت اور این ڈی ایم اے کی جانب سے وارننگ اور معلومات کی فراہمی مزید مؤثر بنائی جائے تاکہ انسانی جانوں اور مالی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
-
پانچ ہزار خیمے اور دیگر ضروری سامان متاثرہ علاقوں میں پہنچا دیا گیا ہے، تاہم مزید وسائل بھی بروئے کار لائے جائیں۔
-
گجرات، سیالکوٹ اور لاہور میں اربن فلڈنگ سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
-
بجلی، ذرائع مواصلات اور سڑکوں کی بحالی کے لیے متعلقہ وفاقی وزرا اور حکام لاہور پہنچ کر صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔
-
ہنگامی اطلاع:خانکی ہیڈورکس پر شدید سیلابی صورتحال:
اپڈیٹ: 27 اگست، دوپہر 12 بجےدریائے چناب میں خانکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 10 لاکھ کیوسک سے تجاوز،جبکہ ہیڈ ورکس کی ڈیزائن کردہ گنجائش 8 لاکھ کیوسک۔ شدید سیلابی ریلے کے باعث ہیڈ ورکس کے ہائیڈرولک ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا۔ pic.twitter.com/JhX8BS9D2j
— NDMA PAKISTAN (@ndmapk) August 27, 2025
دریاؤں کی صورتحال
-
دریائے چناب میں پانی کا اخراج بڑھنے کے باعث ہیڈ مرالہ اور خانکی کے مقامات پر اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
-
متاثرین کے بروقت انخلا کے لیے 2000 ٹرک تیار کر لیے گئے ہیں۔
-
دریائے راوی اور ستلج میں پانی کے اخراج کے دباؤ کی مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے جبکہ خانکی، بلوںکی اور قادرآباد کے مقامات پر صورتحال پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے۔
فوری ریلیف اقدامات
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ سیلابی صورتحال سے پیدا ہونے والے تمام مسائل کو مقامی اور صوبائی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے، اور انسانی جان و مال، فصلوں اور مال مویشیوں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جائے۔







Discussion about this post