لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت (اے ٹی سی) نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں گرفتار علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیر شاہ کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے پولیس کی 30 دن کے ریمانڈ کی درخواست مسترد کر دی اور صرف 5 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔ پولیس حکام نے شیر شاہ کو عدالت میں پیش کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ملزم جائے وقوعہ پر موجود تھا، اسلحہ استعمال ہوا، ویڈیوز میں بھی اس کی موجودگی پائی گئی، جبکہ اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس برآمد کرنے ہیں۔ اسی لیے ملزم کو 30 دن کے لیے پولیس کے حوالے کیا جائے۔ تاہم عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے صرف 5 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے منتظم جج منظر علی گل نے یہ ریمانڈ منظور کیا۔ ملزم کے وکیل سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ شیر شاہ کو واقعے کے 27 ماہ بعد گرفتار کیا گیا ہے جو غیر قانونی ہے۔ کل وہ اپنے بھائی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوا اور واپسی پر گرفتار کر لیا گیا۔

وکیل نے مؤقف اپنایا کہ پولیس دو سال سے زائد عرصہ کہاں تھی جبکہ سپریم کورٹ نے ویڈیو شواہد کے حوالے سے پہلے ہی واضح ہدایات جاری کر رکھی ہیں۔ وکیل رانا مدثر نے عدالت کو بتایا کہ شیر شاہ صرف اپنے بھائی شاہ ریز کی پیشی کے لیے عدالت آیا تھا لیکن واپسی پر اسے بھی گرفتار کر لیا گیا۔ یاد رہے کہ لاہور پولیس نے گزشتہ روز شیر شاہ کو جناح ہاؤس حملہ کیس میں گرفتار کیا تھا جبکہ اس سے ایک روز قبل اس کے بھائی شاہ ریز کو بھی گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا گیا تھا۔







Discussion about this post