آج صبح فجر کے وقت سے اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں میں کم از کم 30 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں اکثریت غزہ شہر کے شہری شامل ہیں۔ قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق صرف غزہ سٹی میں 24 جانوں کا ضیاع ہوا، جب کہ خان یونس کے نصیر ہسپتال نے دو مزید اموات کی تصدیق کی ہے۔
Famine is confirmed by @theIPCinfo in #Gaza City and the surrounding areas.
They project that famine will spread further south by the end of September.
This is man-made.
For almost 6 months the Israeli Authorities have critically restricted food and other essential… pic.twitter.com/EG0CkxhE7q
— UNRWA (@UNRWA) August 22, 2025
ادھر اقوام متحدہ کے ادارے Integrated Food Security Phase Classification (IPC) نے غزہ شہر اور اطراف کے علاقوں کو باضابطہ طور پر ’’قحط زدہ‘‘ قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق:
-
5 لاکھ سے زائد افراد شدید قحط کا شکار ہیں۔
-
10 لاکھ 70 ہزار افراد (غزہ کی آبادی کا 54 فیصد) ’’ایمرجنسی‘‘ کے مرحلے میں ہیں۔
-
3 لاکھ 96 ہزار افراد ’’بحران‘‘ کی کیفیت سے دوچار ہیں۔
یہ صورتحال ستمبر کے آخر تک وسطی غزہ اور جنوبی غزہ تک پھیلنے کا خدشہ ہے۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ "غزہ میں کوئی قحط نہیں ہے”، اور نتائج کو "حماس کا جھوٹ” قرار دیا ہے۔مزید برآں، اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے دھمکی دی ہے کہ اگر حماس نے ہتھیار نہ ڈالے اور یرغمالیوں کو رہا نہ کیا، تو غزہ شہر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ ان کے بقول:
"جلد ہی جہنم کے دروازے غزہ میں حماس کے قاتلوں اور درندوں پر کھل جائیں گے، اگر وہ اسرائیل کی شرائط پر جنگ ختم کرنے پر متفق نہ ہوئے۔”







Discussion about this post