بارش نے کراچی کو ایک بار پھر اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ شہر کی سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں، نظامِ زندگی مفلوج ہوا اور حادثات نے درجنوں گھروں کے چراغ بجھا دیے۔ چیف میٹرولوجسٹ امیر حیدر لغاری کے مطابق بارش کا یہ سلسلہ 23 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ گزشتہ دو روز میں بارش کے باعث المناک واقعات نے 17 قیمتی جانیں لے لیں۔ کہیں پانی کے جوہڑ نے زندگی نگل لی، کہیں بجلی کے کرنٹ نے خواب ادھورے چھوڑ دیے، تو کہیں دیواریں گرنے سے معصوم بچے اور خواتین ملبے تلے دب گئے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کی لرزہ خیز داستانیں رقم ہوئیں۔

گلستانِ جوہر میں دیوار گرنے سے پانچ افراد جاں بحق ہوئے، اورنگی ٹاؤن میں ایک بچی زندگی کی بازی ہار گئی جبکہ شاہ فیصل کالونی، ڈیفنس اور نارتھ کراچی میں کرنٹ لگنے سے کئی زندگیاں چراغِ سحر کی طرح بجھ گئیں۔ طوفانِ باد و باراں نے ہوائی سفر کو بھی متاثر کیا۔ 16 پروازیں منسوخ ہوئیں، 70 تاخیر کا شکار ہوئیں اور ایک طیارہ ہنگامی طور پر ملتان اترا۔ شہر میں تعلیمی سرگرمیاں بھی تھم گئیں۔ سندھ حکومت نے نجی و سرکاری اسکول و کالج بند رکھنے کا اعلان کیا، جامعات نے امتحانات ملتوی کردیے اور طلبہ کو آن لائن کلاسز لینے کی ہدایت دی گئی۔ بجلی کی فراہمی نے شہریوں کو مزید کرب میں مبتلا کیا۔ کے الیکٹرک کے 500 سے زائد فیڈرز ٹرپ ہوگئے، کئی علاقوں میں مسلسل تین دن سے اندھیرا چھایا رہا۔ چیف ایگزیکٹو مونس علوی نے دعویٰ کیا کہ 94 فیصد علاقوں میں بجلی بحال کردی گئی ہے، مگر متعدد شہری اب بھی شکوہ کناں ہیں کہ شکایات کے باوجود روشنی واپس نہیں آئی۔

محکمہ موسمیات نے بارش کے تازہ اعداد و شمار جاری کیے۔ سب سے زیادہ بارش اورنگی ٹاؤن میں 113 ملی میٹر ریکارڈ ہوئی، فیصل بیس پر 43، کورنگی میں 36، کیماڑی میں 31، جناح ٹرمینل پر 28، جبکہ یونیورسٹی روڈ پر 24 ملی میٹر بارش ہوئی۔ کراچی کی گلیوں اور بازاروں میں آج صرف پانی ہی پانی ہے، مگر اس کے ساتھ ہی دکھ، غم اور بے بسی کی کہانیاں بھی ہیں۔ ایک طرف آسمان سے برسنے والے بادل، دوسری طرف زمین پر بکھرتی زندگیاں۔ یہ مناظر شہر کو ایک بار پھر سوالیہ نشان بنا گئے ہیں۔







Discussion about this post