خیبر پختونخوا حکومت کے اعلیٰ حکام نے تصدیق کی ہے کہ صوبائی حکومت کا لاپتہ ہونے والا سرکاری ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر چینگی بانڈہ کے قریب گر کر تباہ ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں سوار تین اہلکار شہید ہو گئے۔ حکام کے مطابق یہ ہیلی کاپٹر سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان لے کر سالار زئی جا رہا تھا، مگر خراب موسم کے باعث مہمند کی فضائی حدود میں اس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ رابطہ بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن بدقسمتی سے ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا۔ انہوں نے متاثرہ علاقے میں فوری طور پر ریسکیو ٹیمیں روانہ کرنے اور جائے حادثہ کو محفوظ بنانے کی ہدایت دی۔ اس موقع پر شہداء کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ صوبائی حکومت کا ایک اور ہیلی کاپٹر اس وقت ضلع بونیر میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے، جہاں شدید بارشوں اور سیلاب نے درجنوں دیہات کو متاثر کیا ہے۔ مکانات تباہ، مویشی اور گاڑیاں پانی میں بہہ جانے سے مقامی آبادی شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی نے ضلع بونیر کو آفت زدہ قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومت سے ہنگامی بنیادوں پر امداد کی فراہمی پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت خیبر پختونخوا کے کئی علاقے سیلاب سے متاثر ہیں، اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ، ریسکیو آپریشن جاری، اور تمام اداروں کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ حوصلہ اور اتحاد کا مظاہرہ کریں، ریسکیو ٹیموں سے تعاون کریں، اور سیاست سے بالاتر ہو کر متاثرین کی بحالی میں کردار ادا کریں۔








Discussion about this post