دو سال کی پابندی کے بعد، صائم صادق کی عالمی ایوارڈ یافتہ اور تہلکہ خیز فلم ’جوائے لینڈ‘ بالآخر لاہور میں ناظرین کے سامنے پیش کی جا رہی ہے۔ خصوصی اسکریننگ 17 اگست کو اولوموپولو میڈیا میں ہوگی، جہاں سینما کی بجائے ایک متبادل اور تخلیقی مقام پر یہ فلم دکھائی جائے گی۔ اس اعلان کی محرک نورالعین چوہدری ہیں، جو لاہور اور کراچی میں مکسٹیپ ایونٹس کی میزبانی کے لیے جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے اولوموپولو میڈیا اور ٹکٹ والا کے اشتراک سے اس خبر کا انکشاف کیا کہ یہ اسکریننگ نہ صرف لاہور میں ’جوائے لینڈ‘ کی پہلی نمائش ہوگی بلکہ اس کے بعد فلم کے ہدایتکار اور لکھاری صائم صادق سے براہِ راست سوال و جواب کا سیشن بھی ہوگا۔ ’جوائے لینڈ‘ پاکستانی فلمی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے, یہ پہلی پاکستانی فلم ہے جس کا پریمیئر فرانس کے کانز فلم فیسٹیول میں ہوا، جہاں اس نے جیوری پرائز جیتا اور پاکستان کی آفیشل آسکر انٹری کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ اس کے باوجود، نومبر 2022 میں وفاقی حکومت کی جانب سے پابندی ہٹانے کے چند گھنٹوں بعد پنجاب حکومت نے موشن پکچرز آرڈیننس 1979 کی شقوں کا حوالہ دیتے ہوئے پروڈیوسر سرمد سلطان کھوسٹ کو نوٹس جاری کر کے صوبے میں فلم کی نمائش روک دی۔ یہ پابندی آج بھی برقرار ہے، اسی لیے لاہور میں ہونے والی یہ نمائش سینما گھروں کے بجائے متبادل مقام پر کی جا رہی ہے۔یہ ایونٹ لاہور کے فلمی شائقین کے لیے ایک نایاب موقع ہے, بڑے پردے پر اس فلم کو دیکھنے اور فلم ساز سے براہِ راست گفتگو کرنے کا۔

’جوائے لینڈ‘ کی کہانی پاکستانی معاشرے میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے مسائل کو جرات مندانہ انداز میں پیش کرتی ہے، اور ملکی فلمی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ٹرانس ویمن نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ فلم میں لاہور کے محنت کش طبقے کے ایک شادی شدہ مرد اور ایک خواجہ سرا کے درمیان تعلق کی نازک اور پیچیدہ داستان کو بُنا گیا ہے، جس نے تعریف کے ساتھ ساتھ بحث کو بھی جنم دیا۔







Discussion about this post