پاکستان نے امریکا کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے، جس کے تحت کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے ذیلی گروپ مجید بریگیڈ کو بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام دہشت گردی کے خلاف عالمی یکجہتی کا مظہر ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے 18 جولائی 2024 کو مجید بریگیڈ پر پابندی عائد کی تھی۔ بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کئی خونی حملوں میں ملوث رہے ہیں، جن میں جعفر ایکسپریس اور خضدار بس پر حملے بھی شامل ہیں۔ ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف مضبوط دیوار ہے اور اس لعنت کے مکمل خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مقصد کے لیے عالمی برادری کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے گزشتہ روز جاری کردہ اپنے اعلامیے میں کہا کہ بی ایل اے کو 2019 میں خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا تھا، اور اب مجید بریگیڈ کو بھی باضابطہ طور پر اسی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔اعلامیے میں انکشاف کیا گیا کہ بی ایل اے نے 2024 میں کراچی ایئرپورٹ اور گوادر میں خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی، جبکہ 2025 میں جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ بھی انہی کے کھاتے میں جاتی ہے۔ اس واقعے میں 31 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور 300 سے زائد افراد یرغمال بنائے گئے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی سطح پر اقدامات جاری رکھے گی۔







Discussion about this post