حیدر علی کی گرفتاری مانچسٹر کے ایک ہوٹل سے عمل میں آئی، جہاں وہ ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ قیام پذیر تھے۔ گرفتار کرنے کے بعد انہیں مقامی پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا اور تین روز تک سخت تفتیش کی گئی۔ انگلینڈ کی گریٹر مانچسٹر پولیس کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ یہ کیس حساس نوعیت کا ہے اور تفتیش کے دوران کسی بھی قسم کی تفصیلات جاری کرنا فی الحال ممکن نہیں۔ پولیس نے مزید وضاحت کی کہ ملزم کو ضمانت پر اس شرط کے ساتھ رہا کیا گیا ہے کہ وہ کیس کے اختتام تک برطانیہ میں قیام کرے گا اور ہر مقررہ تاریخ پر تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوگا۔ دوسری جانب، ذرائع کے مطابق، برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کو اس معاملے کی مکمل آگاہی دے دی گئی ہے اور وہ قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے حیدر علی کے وکیل کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

پی سی بی حکام نے اپنے اندرونی اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ جب تک کیس کی مکمل تحقیقات نہیں ہوجاتیں، حیدر علی کسی بھی قسم کی کرکٹ سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں میڈیا سے بات کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے تاکہ عدالتی کارروائی پر اثر نہ پڑے۔ یہ معاملہ پاکستان اور برطانیہ دونوں ممالک میں کرکٹ شائقین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، اور سابق کرکٹرز نے بھی اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اگر الزام ثابت ہوتا ہے تو یہ نہ صرف کھلاڑی بلکہ پاکستان کرکٹ کی ساکھ کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ہوگا۔







Discussion about this post