سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو جائیدادوں کی نیلامی پر حکم امتناع دینے سے انکار کر دیا۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے واضح کیا کہ یک طرفہ اسٹے نہیں دیا جا سکتا، اور 13 اگست کو تمام درخواستوں پر فریقین کو سن کر فیصلہ ہوگا۔ قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ بھی بحریہ ٹاؤن کی نیلامی روکنے کی درخواست مسترد کر چکی ہے، جس کے بعد نیب راولپنڈی نے 6 کمرشل جائیدادوں میں سے 3 کو نیلام کر دیا۔ نیب اعلامیے کے مطابق، روبیش مارکی 50 کروڑ 80 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی، جو طے شدہ کم از کم قیمت سے 2 کروڑ زائد ہے۔ کارپوریٹ آفس ون اور ٹو پر بالترتیب 87 کروڑ 60 لاکھ اور 88 کروڑ 15 لاکھ کی مشروط بولیاں موصول ہوئیں، جن کی منظوری باقی ہے۔ نیب کا کہنا ہے کہ نیلامی سے حاصل رقم پلی بارگین کی باقی رقم وصول کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی، جب کہ مطلوبہ بولی نہ ملنے پر تین جائیدادوں کی نیلامی مؤخر کر دی گئی ہے۔








Discussion about this post