وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ تمام وفاقی و صوبائی سیکریٹریز اور ریگولیٹری اداروں کے سربراہان اپنے دائرہ اختیار میں موجود تمام کاروباری مراکز کو اس پر عملدرآمد کا پابند بنائیں۔ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ عوام کو ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولت حاصل ہو، اور کاروبار کے معاملات میں شفافیت اور آسانی آئے۔ وزیراعظم آفس نے اس عمل کی نگرانی اور متعلقہ وزارتوں سے رابطے کے لیے ڈاکٹر شازیہ غنی کو فوکل پرسن مقرر کیا ہے، جو اسپیشل پروجیکٹس اینڈ انیشی ایٹوز ٹیم کی سربراہ ہیں۔
ڈیجیٹل ادائیگی کے بغیر لائسنس نہیں ملے گا
مزید ہدایت کی گئی ہے کہ آئندہ کوئی بھی کاروبار تب تک نیا لائسنس یا لائسنس کی تجدید حاصل نہیں کر سکے گا جب تک وہ QR کوڈ یا POS مشین کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولت فراہم نہیں کرتا۔

قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی
وزیراعظم آفس نے کہا ہے کہ جو کاروبار ڈیجیٹل ادائیگی قبول کرنے سے انکار کریں گے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس کے لیے جرمانے یا تادیبی اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، تمام بینکوں، موبائل بینکنگ سروسز، اور ای منی اداروں کو قریبی تعاون کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ پورے ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نیٹ ورک مضبوط بنایا جا سکے۔تمام وزارتوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اسٹیٹ بینک اور فوکل پرسن کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں تاکہ اس نظام کے نفاذ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔







Discussion about this post