پاکستان اور عراق نے مذہبی زیارات اور دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے گوادر اور عراقی بندرگاہ اُم قصر کے درمیان فیری سروس شروع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک نے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ معاہدہ وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری اور اسلام آباد میں عراقی سفارت خانے کے وفد کے درمیان ملاقات میں طے پایا۔ عراقی وفد کی قیادت نائب سربراہ مشن عبدالقادر سلیمان الحمیری نے کی۔
مذہبی زائرین کے لیے بڑی سہولت
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ فیری سروس خاص طور پر ان پاکستانی زائرین کے لیے فائدہ مند ہوگی جو ہر سال اربعین (امام حسینؑ کے چہلم) کے موقع پر نجف اور کربلا جاتے ہیں۔ اس وقت سالانہ تقریباً 10 لاکھ پاکستانی ان زیارتوں پر جاتے ہیں۔ ایران کے ذریعے زمینی راستے پر حالیہ پابندی کے بعد یہ سمندری راستہ ایک محفوظ اور مؤثر متبادل ثابت ہوگا۔
تجارت اور معیشت کو تقویت
جنید انور چوہدری نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان اور عراق کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ اس سے نہ صرف ثقافتی اور مذہبی رشتے مضبوط ہوں گے، بلکہ کاروباری مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان عراق کو ادویات، گوشت اور چاول برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جب کہ عراق سے تیل کی درآمد میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے عراق کی پوٹاشیم سلفیٹ کی طلب پوری کرنے کے لیے گوادر میں موجود سہولت کا ذکر بھی کیا۔
2024 کے تجارتی اعداد و شمار
-
پاکستان کی عراق کو برآمدات: 5 کروڑ 40 لاکھ ڈالر
-
عراق سے درآمدات (زیادہ تر پیٹرولیم مصنوعات): 14 کروڑ 50 لاکھ ڈالر







Discussion about this post