سال 2025 کا مون سون پاکستان کے لیے صرف بارش نہیں، بلکہ ایک انتباہ، ایک فریاد اور ایک خونی داستان لے کر آیا۔ زمین کی سانسیں تیز ہو چکی ہیں، آسمان بپھرا ہوا ہے اور دریا اپنی حدیں توڑنے لگے ہیں۔ پاکستان ان گنے چنے ممالک میں شامل ہے جو دنیا کی موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہو رہے ہیں اور بدقسمتی سے سب سے کم تیاری بھی اسی کے حصے میں آئی ہے۔برطانیہ کے امپیریل کالج لندن کے ورلڈ یدر ایٹریبیوشن گروپ کے ماہرین کی تازہ رپورٹ نے ایک خطرناک تصویر پیش کی ہےجس کے مطابق پاکستان میں رواں سال 15 فیصد زیادہ بارشیں ہوئیں، جن کا تعلق براہِ راست انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں سے ہے۔
سائنس چیخ رہی ہے، مگر کیا ہم سن رہے ہیں؟
پاکستان، برطانیہ، فرانس اور نیدرلینڈز کے 18 ماہرین پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ
"یہ بارشیں قدرتی نہیں، بلکہ انسانی ہاتھوں سے بگاڑی گئی فطرت کا ردعمل ہیں۔”

ڈاکٹر مریم زکریا، امپیریل کالج لندن کی ماہر ماحولیات، کہتی ہیں:
"یہ بارشیں ریکارڈ توڑ نہیں تھیں، مگر یہ خطرے کی ایک مسلسل بڑھتی ہوئی گھنٹی ہیں۔ معمولی بارشیں بھی اب موت کا پیغام بن چکی ہیں۔”
جون سے اگست کے درمیان صرف 38 دن میں 300 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جن میں 80 فیصد سے زائد اموات شمالی پاکستان میں ہوئیں۔ سیلابی ریلوں نے سڑکیں نگل لیں، گھر بہا دیے، فصلیں دفن کر دیں۔ اور یہ سب صرف پانی نہیں تھا یہ انسان کی بے خبری کا نتیجہ تھا۔ دنیا میں کاربن کے اخراج کا صرف 0.5 فیصد پاکستان کے حصے میں آتا ہے، مگر بدلے میں اسے درجہ حرارت میں اضافے، خشک سالی، ہیٹ ویوز اور سیلاب جیسے قہر سہنے پڑ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، اگر دنیا نے اپنی روش نہ بدلی تو صرف 2050 تک پاکستان کو 1200 ارب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑے گا۔
"فوسل فیول” — زمین کا زہر
تحقیق بتاتی ہے کہ اگر دنیا نے فوسل فیول کا استعمال نہ کیا ہوتا تو پاکستان میں بارشوں کی شدت 15 فیصد کم ہو سکتی تھی۔ اور اگر موجودہ عالمی درجہ حرارت 1.3 سینٹی گریڈ سے مزید بڑھتا گیا، تو ہر آنے والا مون سون، پہلے سے زیادہ ہلاکت خیز ہوگا۔
امداد — وعدے بہت، عمل کم
دنیا کے امیر ممالک نے کوپ 29 اجلاس میں وعدہ کیا تھا کہ ترقی پذیر ممالک کو 2035 تک 300 ارب ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔ مگر رپورٹ بتاتی ہے کہ فی الوقت صرف 28 ارب ڈالر سالانہ دیے جا رہے ہیں — یعنی ضرورت سے 187 سے 359 ارب ڈالر کم۔







Discussion about this post