قومی اسمبلی نے فوجداری قوانین میں دو ترامیم کی منظوری دے دی ہے جن کے تحت خاتون کے کپڑے پھاڑنے اور ہائی جیکر سے ملاقات یا تعلقات رکھنے پر سزائے موت ختم کر دی گئی ہے۔ وزیر قانون اعظم تارڑ نے بتایا کہ شق 354 اے (خاتون کے کپڑے پھاڑنے پر سزائے موت) کا ہمیشہ غلط استعمال ہوا، اسی لیے اسے ختم کر کے سزا کم کر دی گئی ہے۔ دوسری ترمیم شق 402 سی (ہائی جیکنگ کے ملزم سے ملاقات پر سزائے موت) سے متعلق ہے، جو اب ختم کر دی گئی ہے۔ ترمیمی بل پر جے یو آئی کی رکن عالیہ کامران نے مخالفت کی، لیکن رائے شماری کے بعد ایوان نے کثرت رائے سے بل منظور کر لیا۔ اسی اجلاس میں پاکستان شہریت ترمیمی بل 2025 بھی پیش کیا گیا، جس کے مطابق دوسرے ملک کی شہریت لینے پر اب پاکستان کی شہریت نہیں چھینی جائے گی۔ علاوہ ازیں، ایوان نے غزہ کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی قرارداد بھی منظور کی، جس میں اسرائیلی بربریت اور انسانی امداد روکنے کی شدید مذمت کی گئی۔ قرارداد میں عالمی برادری سے فوری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا۔







Discussion about this post