وفاقی حکومت نے آئینی اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے اپوزیشن کو 26ویں آئینی ترمیم میں بہتری کے لیے باضابطہ مذاکرات کی دعوت دے دی ہے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ:
"ہم کل بھی مذاکرات کے لیے تیار تھے، آج بھی تیار ہیں۔ آئیں، ہمارے ساتھ بیٹھیں، اور بتائیں کہ اس ترمیم کو بہتر کیسے بنایا جا سکتا ہے۔”
وزیر قانون نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ محض احتجاج، شور شرابہ یا کاغذ پھاڑنے سے معاملات حل نہیں ہوتے، بلکہ جمہوری طرزِ عمل اور گفت و شنید ہی مسائل کا پائیدار حل ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے 26ویں ترمیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے عدالتوں کی جانب سے پارلیمنٹ کی بے توقیری کے تسلسل کو مؤثر انداز میں روکا گیا ہے۔ ان کے مطابق:
"دنیا کے بیشتر جمہوری ممالک میں ججوں کے تقرر کا یہی طریقہ رائج ہے، اور اس ترمیم کے بعد پاکستان میں بھی زیر التوا مقدمات کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔”

26ویں ترمیم ہے کیا؟
26ویں آئینی ترمیم کا مقصد اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کے تقرر کے طریقہ کار میں شفافیت اور توازن لانا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ ترمیم پارلیمنٹ کی خودمختاری کو بحال کرنے اور عدالتی فعال پسندی (Judicial Activism) کا تدارک کرنے کے لیے ضروری قدم ہے۔
سیاسی پس منظر
یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایوان میں سیاسی درجہ حرارت بڑھا ہوا ہے، اور اپوزیشن بارہا عدلیہ سے متعلق حکومتی پالیسیوں پر تنقید کر چکی ہے۔ تاہم، حکومت نے ایک بار پھر جمہوری مکالمے اور پارلیمانی اصلاحات کے دروازے کھلے رکھنے کا پیغام دیا ہے۔







Discussion about this post