تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

امریکہ کے سیاحتی اور کاروباری ویزوں کے لیے 15 ہزار ڈالر ضمانت لینے کی تجویز

by ویب ڈیسک
اگست 5, 2025
امیگریشن انٹرویو کے مترجم سے متعلق نئی پالیسی نافذ
Share on FacebookShare on Twitter

امریکی محکمۂ خارجہ نے ایک ایسی مجوزہ پالیسی پیش کی ہے جو سیاحتی اور کاروباری ویزا حاصل کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے داخلہ مزید مہنگا اور پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ اس تجویز کے تحت مخصوص ممالک کے درخواست دہندگان کو امریکا میں داخلے سے پہلے پانچ ہزار، دس ہزار یا پندرہ ہزار ڈالر تک کا سیکیورٹی بانڈ (ضمانت) جمع کرانا لازمی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق، یہ اقدام ایسے غیر ملکیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے کیا جا رہا ہے جو ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود امریکا میں قیام پذیر رہتے ہیں یا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان کے مطابق، اس پالیسی کا اطلاق 20 اگست سے ایک سالہ پائلٹ پروگرام کے تحت ہوگا۔ اس پروگرام میں اُن ممالک کے شہری شامل ہوں گے جہاں سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کی شرح زیادہ رہی ہے۔

ضمانت کی رقم کیوں؟

پائلٹ پالیسی کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی کرتا ہے تو امریکی حکومت کو مالی نقصان سے محفوظ رکھا جائے۔ ضمانت کی رقم ویزا کی مدت پوری کرنے کے بعد امریکا سے واپسی پر واپس کی جا سکتی ہے  تاہم، اگر ویزا کی خلاف ورزی کی جائے تو یہ رقم ضبط بھی ہو سکتی ہے۔

کن افراد پر ہوگا اطلاق؟

  • صرف سیاحتی (B-2) اور کاروباری (B-1) ویزوں پر آنے والے افراد۔

  • وہ شہری جن کا تعلق ان ممالک سے ہوگا جن کی فہرست بعد میں جاری کی جائے گی۔

  • البتہ، مخصوص حالات میں درخواست دہندہ کی ذاتی پوزیشن دیکھتے ہوئے ضمانت سے استثنا بھی ممکن ہوگا۔

ویزا پالیسی میں مزید سختی

یہ مجوزہ قدم ٹرمپ انتظامیہ کے اس وسیع تر ایجنڈے کا حصہ ہے جس کے تحت امریکا میں داخلے کے قوانین کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔ چند روز قبل ہی امریکی محکمۂ خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ:

  • ویزا کی تجدید کے لیے اب اضافی انٹرویو بھی درکار ہوگا۔

  • ڈائیورسٹی ویزا لاٹری کے درخواست دہندگان کے لیے اپنے ملک کا درست اور قابلِ تصدیق پاسپورٹ پیش کرنا لازم ہوگا۔

ماضی میں ویزا بانڈز پر موقف

دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں محکمۂ خارجہ ویزا بانڈز کے نفاذ سے گریز کرتا رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اس پالیسی سے جُڑے پیچیدہ انتظامی تقاضے اور عوام میں ممکنہ غلط فہمیاں رہی ہیں۔ تاہم، حالیہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ چونکہ اب ایسے بانڈز عمومی طور پر طلب نہیں کیے جا رہے، اس لیے سابقہ تحفظات کی عملی مثالیں موجود نہیں۔ یاد رہے کہ نومبر 2020 میں صدر ٹرمپ کے دورِ حکومت میں اسی نوعیت کا ایک پائلٹ پروگرام متعارف کرایا گیا تھا، تاہم کورونا وبا اور عالمی سفر پر پابندیوں کے باعث اسے مؤثر انداز میں نافذ نہیں کیا جا سکا تھا۔

Previous Post

چین نے اگر ٹک ٹاک کی فروخت نہ کی تو امریکا میں ایپ بند کر دی جائے گی، امریکا

Next Post

وفاقی حکومت کی اپوزیشن کو 26ویں ترمیم میں بہتری لانے کیلئے مذاکرات کی دعوت

Next Post
آئینی ترامیم دلیری کے ساتھ لے کر آئیں گے

وفاقی حکومت کی اپوزیشن کو 26ویں ترمیم میں بہتری لانے کیلئے مذاکرات کی دعوت

Discussion about this post

تار نامہ

برٹنی اسپیئرز نشے کی حالت میں گاڑی چلانے پر گرفتار

برٹنی اسپیئرز نشے کی حالت میں گاڑی چلانے پر گرفتار

drone

پنجاب میں ’اینٹی ڈرون یونٹ‘ قائم کرنے کا فیصلہ

ricky martin

معروف گلوکار رکی مارٹن ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی اختتامی تقریب میں پرفارم کریں گے

iran 4

امریکی ٹی وی کی ایران کی بڑی جنگی کامیابیوں کی تصدیق

اگست میں بنگلہ دیش کی 2 کرکٹ  ٹیمیں آئیں گی

پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز، بنگلہ دیش اسکواڈ کا اعلان

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist