حکومتِ پاکستان نے یوکرین میں پاکستانی شہریوں کی مبینہ شرکت سے متعلق یوکرینی صدر کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں من گھڑت، بے بنیاد اور مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے ایک باضابطہ بیان میں واضح کیا کہ ان دعووں میں کوئی صداقت نہیں، نہ ہی کسی سطح پر ان کی تصدیق ممکن ہے۔ پاکستان کی جانب سے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا گیا ہے۔
"ایسے بے بنیاد دعوے زمینی حقائق سے یکسر لاتعلق ہیں،”ترجمان دفتر خارجہ
حکومت پاکستان کا مؤقف: شواہد کہاں ہیں؟
دفتر خارجہ کے مطابق یوکرینی حکام کی جانب سے نہ تو کسی قسم کا سرکاری رابطہ کیا گیا ہے، اور نہ ہی ان الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس، قابلِ تصدیق شواہد فراہم کیے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان اس معاملے پر باضابطہ طور پر یوکرین سے وضاحت طلب کرے گی۔
امن کا داعی پاکستان
پاکستان نے ایک بار پھر اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یوکرین تنازع کا حل طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ بات چیت اور سفارتی ذرائع سے چاہتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق امن، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری ہی پاکستان کی ترجیح ہے۔
یوکرینی صدر کا متنازع بیان
یاد رہے کہ یوکرینی صدر وولودومیر زیلنسکی نے حال ہی میں ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ شمال مشرقی یوکرین میں روسی افواج کے ساتھ لڑنے والوں میں پاکستان، چین، تاجکستان، ازبکستان اور چند افریقی ممالک کے جنگجو بھی شامل ہیں۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کہا:
"ہم نے فرنٹ لائن پر موجود کمانڈرز سے ووفچانسک کے دفاع پر بات کی، جہاں کرائے کے جنگجو مختلف ممالک سے موجود ہیں۔ ہم اس کا مؤثر جواب دیں گے۔”

سوالات جو جواب مانگتے ہیں
پاکستانی دفتر خارجہ کے سخت مؤقف کے بعد اب نظریں یوکرین پر جمی ہیں کہ وہ ان دعوؤں کے پیچھے کیا شواہد پیش کرتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے الزامات بین الاقوامی تعلقات میں غیر ضروری تناؤ پیدا کر سکتے ہیں اور ان سے گریز کیا جانا چاہیے۔







Discussion about this post