سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مونس علوی کو عہدے سے ہٹانے اور 25 لاکھ روپے جرمانے کے صوبائی محتسب کے فیصلے کو عبوری طور پر معطل کر دیا ہے۔جسٹس فیصل کمال عالم کی سربراہی میں ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے:
"صوبائی محتسب کے پاس قانوناً ایسا اختیار کہاں سے آیا؟”
عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ مونس علوی جرمانے کی رقم 25 لاکھ روپے بطور ضمانت سندھ ہائیکورٹ کے ناظر کے پاس جمع کروائیں۔مونس علوی اپنے وکیل بیرسٹر عابد زبیری کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ:
"یہ مقدمہ وفاقی محتسب کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، صوبائی محتسب کا فیصلہ قانونی حدود سے تجاوز ہے۔”
عدالت نے اس استدلال پر استفسار کیا:
"آپ کیسے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ صرف وفاقی محتسب کے دائرے میں آتا ہے؟”
وکیل نے کہا کہ صوبائی محتسب کا دائرہ کار نجی اداروں تک محدود نہیں، اور کے الیکٹرک ایک نجی کمپنی ہے، لہٰذا صوبائی محتسب کی طرف سے عہدے سے ہٹانے اور جرمانے کا فیصلہ غیر قانونی ہے۔عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد شکایت کنندہ اور صوبائی محتسب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز صوبائی محتسب نے سی ای او مونس علوی کو ایک خاتون ملازمہ کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے الزامات ثابت ہونے پر ان کے عہدے سے ہٹانے اور 25 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔







Discussion about this post