وفاقی حکومت نے بیرونِ ملک سے آن لائن خریدی جانے والی اشیاء اور ڈیجیٹل سروسز پر عائد 5 فیصد ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق یہ حکم یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔ یہ ٹیکس ان غیر ملکی ڈیجیٹل کمپنیوں کی خدمات و اشیاء پر عائد کیا گیا تھا جن کا پاکستان میں کوئی فزیکل دفتر یا نمائندگی موجود نہیں تھی۔ یاد رہے کہ یہ ٹیکس پچھلے مالی سال میں نافذ کیا گیا تھا اور ڈیجیٹل صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں رہا۔
ایف بی آر کا مؤقف اور بجٹ شق
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق، رواں سال کے بجٹ میں ایک شق شامل کی گئی تھی، جس کے تحت وفاقی کابینہ کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ اس ٹیکس میں چھوٹ دے سکتی ہے۔ اب کابینہ نے اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔

ڈیجیٹل معیشت کے لیے مثبت قدم
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور بیرونِ ملک مقیم فری لانسرز، اسٹوڈنٹس، اور کاروباری صارفین کے لیے ایک خوش آئند اقدام ہے۔ اس سے:
-
آن لائن تعلیم، سافٹ ویئرز، ایپس اور دیگر خدمات کی خریداری سستی ہو گی
-
فری لانسرز اور ڈیجیٹل ایجنسیز کو بین الاقوامی سروسز تک رسائی آسان ہو گی
-
نئی اسٹارٹ اپس اور ٹیک انٹرپرینیورز کو سہولت میسر آئے گی
صارفین کا ردِعمل
ڈیجیٹل صارفین اور آن لائن کاروباری حلقوں نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام حکومت کی جانب سے ٹیکنالوجی دوست پالیسیوں کا عکاس ہے، جو پاکستان کو ڈیجیٹل انقلاب کی طرف تیزی سے لے جا سکتی ہے۔







Discussion about this post