راولپنڈی میں غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی معصوم 18 سالہ سدرہ کے کیس نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد سامنے آنے والے ہولناک انکشافات نے اس واقعے کو محض ایک قتل نہیں، بلکہ انسانیت کے خلاف جرم بنا دیا ہے۔
تشدد کی انتہا: ٹوٹی ہوئی گردن، باہر نکلی زبان
سدرہ کی قبر 17 جولائی کو بارش کے دوران جلد بازی میں دفنائی گئی، اور قبر کے تمام نشانات مٹا دیے گئے۔ مگر قبر کشائی کے بعد سدرہ کی پھولی ہوئی لاش، باہر نکلی زبان اور گردن کی ٹوٹی ہوئی ہڈیاں چیخ چیخ کر اس ظلم کی شدت کو بیان کر رہی تھیں۔ پوسٹ مارٹم کے دوران سدرہ کے جسم پر شدید جسمانی تشدد کے واضح نشانات پائے گئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے انتہائی سفاکیت اور بربریت سے سدرہ کو قتل کیا، جو کسی حیوانیت سے کم نہیں۔
عدالت میں انصاف کی امید، تمام ملزمان گرفتار
پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس دردناک واقعے میں ملوث تمام 8 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ انہیں عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
پوسٹ مارٹم اور فرانزک عمل جاری
ہولی فیملی اسپتال کی سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر مصباح الرحمان نے اپنی ٹیم کے ساتھ سدرہ کی میت کا پوسٹ مارٹم کیا۔ فرانزک نمونے حاصل کرکے لاہور لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جہاں سے رپورٹ آنے پر قتل کی وجوہات کی حتمی تصدیق کی جائے گی۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سدرہ کو مبینہ طور پر گلا دبا کر، سانس بند کرکے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ میڈیکل بورڈ اپنی رپورٹ مرتب کرکے عدالت میں سربمہر طور پر جمع کرائے گا۔
غیرت کے نام پر قتل — ایک سوال پورے معاشرے سے
سدرہ کا قتل صرف ایک لڑکی کی جان لینا نہیں، بلکہ یہ اس پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے جو غیرت کے نام پر ظلم کو سہتا ہے، اور کبھی کبھی خاموشی سے دیکھتا ہے۔ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم بطور معاشرہ جاگیں؟ سدرہ کی چیخیں اب صرف عدالت نہیں، انسانیت کے ہر ضمیر پر دستک دے رہی ہیں۔







Discussion about this post