بلوچستان میں دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے قوم کے بہادر سپوت، میجر زیاد سلیم کے اہلِ خانہ سے وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملاقات کی۔ اسلام آباد میں واقع ان کے گھر پر تعزیت کے لیے آنے والے وزیر داخلہ نے شہید کی والدہ، بہن، بھائیوں اور دیگر اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا، فاتحہ خوانی کی اور شہید کے بلند درجات اور اہلِ خانہ کے صبر کے لیے دعا کی۔ محسن نقوی نے شہید میجر زیاد سلیم کی عظیم والدہ کے حوصلے، صبر اور عزم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسی باہمت مائیں پوری قوم کا فخر ہوتی ہیں، جنہوں نے اپنی گود سے ایسے سپاہی پیدا کیے جو وطن پر جان نچھاور کر کے امر ہو گئے۔
"ہم آپ کے خاندان کا ہر طرح سے خیال رکھیں گے” – وزیر داخلہ
وزیر داخلہ نے شہید کے اہلِ خانہ کو یقین دلایا کہ ریاست ان کی قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدا کے اہلِ خانہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہیں اور حکومت ہر سطح پر ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
"بیٹا زخمی تھا مگر ساتھیوں کو بچاتا رہا” – شہید کی والدہ کی پکار
اس پُرنم ملاقات کے دوران شہید میجر زیاد سلیم کی والدہ نے جذباتی انداز میں اپنے بیٹے کی وطن سے وابستگی بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’زیاد کو وطن سے عشق جنون کی حد تک تھا۔ زخمی ہونے کے باوجود اس نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر اپنے ساتھیوں کی حفاظت کو ترجیح دی۔‘‘ والدہ نے مزید بتایا کہ ان کا بیٹا حال ہی میں شادی کے بندھن میں بندھا تھا، لیکن اس کی زندگی کا اصل محور وطن کی خدمت تھا۔ انہوں نے پُرعزم لہجے میں کہا:
"میرے شوہر کے بعد اب بیٹا بھی وطن پر قربان ہو گیا، لیکن میں کل بھی پاک فوج کے ساتھ کھڑی تھی، آج بھی ہوں، اور ہمیشہ رہوں گی۔”
قربانیوں کی میراث: والد بھی وطن پر قربان
یہ بات قابل ذکر ہے کہ میجر زیاد سلیم کے والد، بریگیڈیئر سلیم بھی 2005 میں مادرِ وطن پر جان قربان کر چکے ہیں۔ یوں یہ خاندان نہ صرف شہادت کا وارث ہے بلکہ وطن پر جان نچھاور کرنے کی عظیم روایت کا امین بھی ہے۔ ملاقات کے دوران شہید کے بھائی نے وزیر داخلہ کو میجر زیاد سلیم کا آخری آڈیو پیغام سنایا، جس میں ان کے جذبے، فرض شناسی اور وطن سے عشق کی جھلک واضح تھی۔ پیغام سنتے ہی فضا سوگوار ہو گئی اور حاضرین کی آنکھیں نم ہو گئیں۔







Discussion about this post