فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے عوامی جمہوریہ چین کا اہم اور بامقصد سرکاری دورہ کیا، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور چینی پیپلز لبریشن آرمی کے ہیڈکوارٹرز میں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ یہ اعزاز دونوں افواج کے دیرینہ، بااعتماد اور اسٹریٹیجک تعلقات کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ دورۂ چین کے دوران آرمی چیف نے چین کی اعلیٰ ترین سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعاون، علاقائی استحکام اور عالمی سطح پر بدلتی صورتحال کے تناظر میں اسٹریٹیجک مشاورت کی گئی۔ چینی نائب صدر ہان ژینگ اور وزیر خارجہ وانگ ژی سے علیحدہ ملاقاتوں میں سی پیک منصوبے، خطے کو درپیش چیلنجز اور جیوپولیٹیکل حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
چینی قیادت نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مؤثر کردار اور پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔

عسکری سطح پر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے چین کے سینئر فوجی حکام سے ملاقاتیں کیں، جن میں جنرل ژانگ یوشیا، جنرل چن ہوئی اور لیفٹیننٹ جنرل کائی زائی جن شامل تھے۔ ان ملاقاتوں میں دفاعی تعاون، انسداد دہشتگردی کی مشترکہ حکمت عملی، دفاعی مشقوں، جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے اور ہائبرڈ خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ آپریشنل ہم آہنگی پر توجہ مرکوز کی گئی۔ چینی افواج کی قیادت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی شراکت داری پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو تسلیم کیا۔ آرمی چیف نے چین کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور دوطرفہ عسکری تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔یہ دورہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان گہرے سیاسی اور عسکری رشتے کا ثبوت ہے بلکہ خطے میں امن، ترقی اور اسٹریٹیجک ہم آہنگی کے لیے دونوں ممالک کے عزم کو بھی اجاگر کرتا ہے۔







Discussion about this post