9 مئی کے واقعات میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ضمانت منسوخی کے بعد، انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ان کی بہن علیمہ خان نے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) میں باضابطہ درخواست دائر کردی ہے۔ یہ درخواست ایڈووکیٹ فیصل ملک کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے وکالت نامے پر دستخط کرانے میں جیل حکام رکاوٹ بن رہے ہیں۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ وہ اگست سے قبل سپریم کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کرنا چاہتے ہیں، جس کے لیے وکالت نامے کی بروقت تکمیل ضروری ہے۔ عدالت نے جیل حکام کو حکم دیا ہے کہ آج ہی بانی پی ٹی آئی سے وکالت نامے پر دستخط کروا کر کل تک رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے، تاکہ درخواست گزار کو آئینی حق سے محروم نہ رکھا جائے۔ دوسری جانب لاہور کی کینٹ کچہری نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی اور سینیٹر شبلی فراز کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔ یہ مقدمہ اسلام آباد پولیس پر زمان پارک میں مبینہ حملے سے متعلق ہے۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو جیل حکام کے ذریعے طلبی کا سمن جاری کیا ہے اور سماعت کی اگلی تاریخ 30 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
پس منظر
واضح رہے کہ 9 مئی 2023 کو چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پُرتشدد مظاہرے ہوئے تھے۔ ان واقعات کے بعد پی ٹی آئی قیادت اور کارکنان پر دہشت گردی اور دیگر سنگین دفعات کے تحت درجنوں مقدمات درج کیے گئے۔ ان ہی مقدمات میں سے متعدد میں ضمانت منسوخ ہونے پر بانی پی ٹی آئی اب اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کر رہے ہیں۔







Discussion about this post