بھارت میں ریلائنس گروپ آف کمپنیز کے خلاف مالی بے ضابطگیوں، قرضوں میں خرد برد اور مبینہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بھارتی تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے انیل امبانی سے وابستہ 50 سے زائد کمپنیوں پر چھاپے مارے ہیں، جب کہ ممبئی میں انیل امبانی کی ذاتی رہائش گاہ پر بھی چھاپہ مارا گیا۔
امبانی خاندان کے افراد بھی زد میں
ای ڈی کی کارروائیاں صرف کمپنیوں تک محدود نہیں رہیں۔ انیل امبانی کے بیٹے انمول امبانی پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔
سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (SEBI) نے انمول پر 1 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔
الزام ہے کہ انہوں نے ریلائنس ہوم فائنانس کے قرضوں سے متعلق معاملات میں قانونی ضوابط کی خلاف ورزی کی۔
تحقیقات کا دائرہ مزید پھیلنے کا امکان
ای ڈی ذرائع کے مطابق، ابتدائی تحقیقات میں ملنے والے شواہد کی بنیاد پر منی لانڈرنگ، فرضی کمپنیوں کے ذریعے رقوم کی منتقلی، اور بینک قرضوں کا غلط استعمال جیسے نکات پر توجہ دی جا رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہوئے تو یہ انیل امبانی اور ان کے قریبی ساتھیوں کے لیے قانونی اور مالی طور پر بڑا دھچکہ ہو سکتا ہے۔ انیل امبانی، بھارت کے امیر ترین صنعتکار مکیش امبانی کے چھوٹے بھائی ہیں، اور انہوں نے ایک وقت میں ٹیلی کام، فنانس، انرجی اور میڈیا کے شعبے میں وسیع کاروبار قائم کیا تھا۔تاہم گزشتہ چند برسوں میں ان کی کمپنیاں مالی بحران، قرضوں کے بوجھ اور قانونی مقدمات میں الجھتی رہی ہیں۔








Discussion about this post